رسائی کے لنکس

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ’’میں قاہرہ سے انتہائی اعتماد کے ساتھ، بہت اعتماد کے ساتھ روانہ ہوا کہ فوج کے فوج سے ہمارے تعلقات کی بہتر راہیں کھلیں گی، جو تعلقات ہمیشہ قریبی رہے ہیں، اور برسہا برس سے بہت ہی ٹھوس رہے ہیں‘‘

امریکی وزیر دفاع، جِم میٹس نے کہا ہے کہ وہ اور اُن کے مصری ہم منصب نے اس بات پر رضامندی کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین نئے سرے سے اور مضبوط سکیورٹی پارٹنرشپ قائم ہوگی، ایسے میں جب مصر بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے خطرے سے نبردآزما ہے۔

میٹس نے جمعرات کی رات گئے تل ابیب میں آمد پر، پینٹاگان کے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ ’’قاہرہ سے انتہائی اعتماد کے ساتھ، بہت اعتماد کے ساتھ روانہ ہوا کہ فوج کے فوج سے ہمارے تعلقات کی بہتر راہیں کھلیں گی، جو ہمیشہ قریبی رہے ہیں، اور برسہا برس سے بہت ہی ٹھوس رہے ہیں‘‘۔

اس سے قبل قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران، میٹس نے کہا کہ مصر کے صدر عبدالفتح السیسی اور مصری وزیر دفاع صدقی صبحی کے ساتھ انسداد دہشت گردی اور سرحدوں کو محفوظ بنانے پر بات ہوئی، جس حوالےسے سکیورٹی ماحول ’’انتہائی پیچیدہ‘‘ ہے۔

میٹس کے بقول، ’’آپ نے مصر کے خلاف امنڈتے ہوئے خطرات کا مشاہدہ کیا ہوگا۔ ہاں، اِن میں سنائی میں مصری شہریوں کے خلاف دہشت گرد حملے، (اور) وسیع تر مصر میں، اُن مصریوں کے خلاف ہدشت گرد حملے جو مسیحی ہیں‘‘۔

امریکی وزیر دفاع جِم میٹس نے جمعرات کو مصر کا دورہ کیا، جس سے ٹرمپ انتظامیہ کے پہلے 100 دِنوں کے دوران قاہرہ کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں گرمجوشی کا سلسلہ عیاں ہے۔

مصر کے اہل کاروں سے ملاقات کے بعد، مٹیس نے قاہرہ کے نامعلوم سپاہیوں کے مقبرے پر پھولوں کی چادر چڑھائی، جس کے بعد وہ اسرائیل کے لیے روانہ ہوئے، جو دورہٴ مشرق وسطیٰ میں اُن کی تیسری منزل ہوگی، جس دورے کا آغاز سعودی عرب سے ہوا۔

مصر کے دورے میں میٹس نے ملک کی حوصلہ افزائی کی جو سیاسی، مالی اور سکیورٹی کے معاملات میں پیش رفت کے لیے کوشاں ہے۔ اُنھوں نے مصر سے کہا کہ وہ انسداد دہشت گردی کے معاملے پر سخت روی اختیار کرے، جب کہ جزیرہٴ سنائی کے علاوہ چند شہری علاقوں میں اُسے خطرات درپیش ہیں، جیسا کہ ’پام سنڈے‘ کے تہوار پر الیگزینڈریہ اور طانطا میں داعش کے شدت پسندوں کے ہاتھوں قبطی گرجا گھروں پر حملوں کی صورت میں نمودار ہوئے۔

جم میٹس نے مصر کے وزیر دفاع صدقی صبحی اور صدر عبدالفتح السیسی سے بات چیت کی، جو اسی ماہ کے اوائل میں وائٹ ہاؤس کا دورہ کر چکے ہیں، جو مصری سربراہ کا امریکہ کا پہلا دورہ تھا، جس سے قبل سنہ 2009 میں سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں حسنی مبارک نے امریکہ کا دورہ کیا تھا۔

سنہ 2011 میں سیاسی بھونچال کے نتیجے میں مبارک کو اقتدار سے الگ کیا گیا، جس سے کئی سال کی کشیدگی نے جنم لیا، جس کے نتیجے میں آمرانہ دور کا آغاز ہوا جس کی سربراہی سابق جنرل، سیسی کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG