رسائی کے لنکس

امریکی وزیر دفاع جنوبی کوریا اور جاپان کا دورہ کریں گے


جیمز میٹس (فائل فوٹو)

امریکی وزیردفاع نے منگل کو جنوبی کوریا کے وزیر فاع ہان منکو سے فون پر بات کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق میٹس نے باہمی دفاعی معاہدے کو برقرار رکھنے سے متعلق امریکی ذمہ داری کا اعادہ بھی کیا۔

امریکہ کے وزیر دفاع جیمز میٹس اپنے پہلے غیر ملکی سرکاری دورے پر رواں ہفتے جنوبی کوریا اور جاپان جائیں گے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ میٹس مشترکہ دفاعی اخراجات میں اپنا حصہ نہ ڈالنے والے ممالک پر کی جانے والی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کے تناظر میں پریشان اتحادیوں کو امریکی یقین دہانی کروائیں گے۔

پینٹاگان کا کہنا ہے کہ مشرقی ایشیا کو اپنے پہلے دورے کے طور پر منتخب کرنے کے وزیردفاع کے فیصلے کا مقصد شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے جوہری اور میزائل خطرے کے خلاف امریکہ کے دیرینہ اتحادیوں کے ساتھ امریکی عزم کا اظہار کرنا ہے۔

سیئول کی ٹروئے یونیورسٹی سے منسلک علاقائی سلامتی کے تجزیہ کار ڈینیئل پنکسٹن کہتے ہیں کہ "میرے خیال میں غیریقینی کی اس صورتحال کو عدم استحکام یا ممکنہ عدم استحکام کے طور پر دیکھا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ خطے میں متعدد اتحادی شراکت دار امریکی اتحاد کے عزم کی ساکھ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔"

امریکی وزیردفاع نے منگل کو جنوبی کوریا کے وزیر فاع ہان منکو سے فون پر بات کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق میٹس نے باہمی دفاعی معاہدے کو برقرار رکھنے سے متعلق امریکی ذمہ داری کا اعادہ بھی کیا۔

اس معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ امریکہ، شمالی کوریا کی طرف سے اپنے اتحادیوں کے خلاف کسی بھی حملے کی صورت میں امریکی افواج اور ہتھیاروں سے ان کی مدد کرے گا۔

مزید برآں دونوں وزرائے دفاع نے منصوبے کے مطابق امریکی "تھاڈ" میزائل دفاعی نظام بھی نصب کرنے پر اتفاق کیا۔ اس مجوزہ تنصیب پر چین اور جنوبی کوریا کے بعض حلقوں کی طرف سے شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔

رواں ہفتے ہی صدر ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے قائم مقامی صدر وانگ کیو ہن سے بات کی تھی اور انھیں بتایا تھا کہ امریکہ ان کا اب بھی مضبوط عسکری اتحادی ہے۔ جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے دس فروری کو وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

XS
SM
MD
LG