رسائی کے لنکس

نئے امریکی وزیردفاع کا دورہ افغانستان


امریکی وزیردفاع کی افغان صدر سے ملاقات

امریکی وزیردفاع کی افغان صدر سے ملاقات

صدر اوباما کا منصوبہ ہے کہ امریکی فوجیوں میں سے نصف کو اس سال کے اواخر تک جب کہ 2016ء کے دسمبر تک تمام فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے۔

امریکہ کے نئے وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے ہفتہ کو افغان صدر اشرف غنی سے کابل میں ملاقات کی جس میں باہمی دلچپسی کے اُمور اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایشٹن کارٹر اپنا منصب سنبھالنے کے بعد پہلے غیر ملکی دورے پر ہفتہ کو غیر اعلانیہ طور پر افغانستان پہنچے تھے۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی اتحادی حکومت افغانستان کے استحکام کے لیے امریکہ کو مزید موثر شراکت داری کا نیا عزم پیش کرتی ہے جو کہ ان کے بقول ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔

افغان صدر نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان کے "زمینی حقائق کا احساس" کرنے پر صدر اوباما کا شکریہ ادا کیا۔

گزشتہ سال کے اواخر میں تمام غیر ملکی افواج کے افغانستان کے انخلا کے بعد اب یہاں ایک معاہدے کے تحت لگ بھگ 12 ہزار بین الاقوامی فوجی تعینات ہیں جن میں لگ بھگ دس ہزار امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔

یہ اہلکار مقامی سکیورٹی فورسز کو تربیت کے علاوہ انسداد دہشت گردی میں معاونت بھی فراہم کر رہے ہیں۔

صدر اوباما کا منصوبہ ہے کہ امریکی فوجیوں میں سے نصف کو اس سال کے اواخر تک جب کہ 2016ء کے دسمبر تک تمام فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے۔

امریکی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ تاحال اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے لیکن آئندہ ماہ افغان صدر کے دورہ واشنگٹن میں صدر اوباما ان سے اس بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔

ایشٹن کارٹر یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکہ کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ شدت پسند تنظیم ’داعش‘ مشرق وسطیٰ سے اپنا دائرہ افغانستان تک نا بڑھا سکے۔

XS
SM
MD
LG