رسائی کے لنکس

ایران کے میزائل پروگرام پر امریکی پابندیاں ملتوی: اخبار


ایران کے صدر حسن روحانی نے وزیر دفاع کو حکم دیا کہ وہ امریکہ کی طرف سے مجوزہ پابندیوں کے جواب میں ملک کے بیلسٹک جوہری پروگرام کو مزید وسعت دیں۔

امریکہ کے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ایک خبر کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیاں لگانے کا ارادہ ملتوی کر دیا ہے۔

امریکی حکام اس ہفتے کے اوائل میں ایران، ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات میں 12 افراد اور کمپنیوں کے خلاف پابندیوں کے اعلان کا ارادہ رکھتے تھے۔

مگر روزنامہ ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے جمعرات کی شام خبر دی کہ یہ فیصلہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق پابندیوں کی تجویز ’’زیر غور رہے گی‘‘ مگر اخبار کے مطابق یہ واضح نہیں کہ کیا واقعی اور کب یہ پابندیاں عائد کی جائیں گے۔

حکام نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ اس قسم کی اقتصادی پابندیاں ایران کے ساتھ اس برس ہونے والے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کریں گی۔ تاہم ایران اس سے اختلاف کرتا ہے اور اس نے کہا ہے کہ نئی پابندیاں جوہری معاہدے کے خلاف ہیں۔

جمعرات کو ایران کے صدر حسن روحانی نے وزیر دفاع کو حکم دیا کہ وہ امریکہ کی طرف سے مجوزہ پابندیوں کے جواب میں ملک کے بیلسٹک جوہری پروگرام کو مزید وسعت دیں۔

ٹوئیٹر پر اپنے پیغامات میں روحانی نے کہا کہ ’’اگر امریکہ نے اپنا دفاع کرنے کے ایران کے حق میں ناجائز مداخلت جاری رکھی تو میزائلوں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ایک نیا پروگرام تشکیل دیا جائے گا۔‘‘

’’ہم نے اپنی دفاعی صلاحیت پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا، جس میں ہمارا میزائل پروگرام بھی شامل ہے اور ہم اس سلسلے میں کوئی پابندی برداشت نہیں کریں گے۔‘‘

روحانی کے بیان پر ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ امریکہ ایران کے میزائل پروگرام سے درپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے طویل عرصہ سے اقدامات کر رہا ہے اور ایسا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ علاقے میں امریکی اتحادیوں کے ساتھ قریبی تعاون اور ایسے خطرات کے خلاف ان کا دفاع کرتا رہے گا۔

’وال سٹریٹ جرنل‘ نے کہا کہ میزائل پروگرام سے منسلک 12 افراد اور کمپنیوں پر امریکی پابندیاں لگانے کی تجویز ہے۔ پابندیوں میں امریکی بنکوں سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ فہرست میں شامل تمام افراد اور کمپنیوں کے اثاثے منجمد کر دیں اور امریکی کمپنیوں اور افراد کو ان سے کاروبار کرنے سے منع کیا جائے گا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابر انصاری نے جمعرات کو مجوزہ پابندیوں کو ’’یکطرفہ، من مانی اور غیر قانونی‘‘ قرار دیا۔

ایران نے اکتوبر اور نومبر میں میزائلوں کے تجربات کیے تھے۔ امریکہ اور فرانس نے کہا تھا کہ اکتوبر میں کیا جانے والا تجربہ سلامتی کونسل کی اس قرارداد کی خلاف ورزی کرتا ہے جس میں ایران پر بیلسٹک میزائل کی تیاری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

ایران نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پابندی صرف ان میزائلوں سے متعلق تھی جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے میزائلوں میں ایسی کوئی صلاحیت نہیں۔

امریکہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ میزائلوں کا واحد مقصد جوہری ہتھیاروں کی ترسیل ہے۔

اوباما انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’ہم کچھ وقت سے ایران کی سرگرمیوں کے بارے میں اپنے خدشات کی بنا پر اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے خلاف مزید کارروائی کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہے تھے۔ ان سرگرمیوں میں اکتوبر میں اس کا دسواں تجربہ بھی شامل ہے۔‘‘

جمعرات کو ہی ایران کی سپاه پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان رمضان شریف نے امریکی الزامات کی تردید کی کہ ایران کے تجرباتی میزائل آبنائے ہرمز میں موجود امریکہ کے طیارہ بردار جہاز کے قریب سے گزرے۔

رمضان شریف نے اس خبر کو ’’نفسیاتی جنگ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ بحریہ نے گزشتہ ہفتے کوئی مشقیں نہیں کیں۔

امریکی فوج کے حکام نے کہا تھا کہ میزائل امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومین‘ کے قریب 1,500 میٹر کی حد کے اندر سے گزرا۔ حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کی بحریہ نے میزائل داغنے سے ایک گھنٹے سے کم وقت قبل ایک ریڈیو اعلان کیا تھا کہ علاقے میں موجود جہاز میزائل کے راستے سے ہٹ جائیں۔

XS
SM
MD
LG