رسائی کے لنکس

امریکہ کی طرف سے ایرانی جوہری سائنس داں کو اغوا کرنے کی تردید


شہرام امیری

شہرام امیری

امریکہ نےلاپتا ایرانی جوہری سائنس داں کواغوا کیےجانے کی تردید کی ہے، جِس کے بارے میں ایران کا الزام ہے کہ اُنھیں اُن کی مرضی کے خلاف ریاست ایروزنا کے شہرٹوسان میں قید رکھا گیاہے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلی نے منگل کو کہا کہ شہرام امیری کے اغوا کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ نہیں ہے اور اُس وِڈیو کی تصدیق نہیں کی جاسکتی جِس میں جوہری سائنس دان کو ایریزونا میں دکھایا گیا ہے۔

دریں اثنا، حکومتِ ایران نے تہران میں سوئٹزرلینڈ کے سفیر کو طلب کیا اور کچھ دستاویز اُن کے حوالے کیے جن کے ذریعے ایران کا دعویٰ ہے کہ سائند داں کے اغوا کی تصدیق ہوتی ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدے دار نے منگل کو سویز سفیر کو بتایا کہ امریکہ امیری کی سلامتی کا ذمے دار ہے۔ چونکہ واشنگٹن اور تہران کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں لہٰذا ایران میں سویٹزرلینڈ کا سفارتخانہ امریکی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے۔

ایران کے حکومتی ٹیلی ویژن نے ایک شخص کی وِڈیو چلائی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ اُنھیں سعودی اور امریکی خفیہ اداروں نے مدینے سے اغوا کیا اور امریکہ میں اذیت دی جارہی ہے۔

تاہم، پیر کے روز ‘یو ٹیوب’ویب سائیٹ پر پوسٹ ہونے والی وِڈیو میں امیری نام کا ایک شخص کہتا ہے کہ وہ امریکہ میں صحیح اور سلامت ہے۔

وِڈیو میں دکھایا گیا شخص کہتا ہے کہ وہ صحت سے متعلق طبیعات کے علم میں تعلیم جاری رکھنے کی خاطر امریکہ پہنچے تھا۔ وہ آرام سے ایک کمرے میں بیٹھا ہوا ہے، جو کسی دفتر یا مطالعے کا کمرہ دکھائی دیتا ہے۔

وہ شخص کہتا ہے کہ اُنھیں ہتھیار بنانے کے شعبے سے کوئی دلچسپی نہیں، اور یہ کہ وہ وِڈیو پر گفتگو کے ذریعے اِن افواہوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں کہ ایران میں وہ کسی غلط کارروائی میں ملوث رہے ہیں۔

30سالہ امیری ایک جوہری طبیعات داں ہے جو جون 2009ء سے لاپتا ہے۔ کچھ ہی ماہ پہلے ایرانی وزیرِ خارجہ منوچہر متقی نے کہا کہ تفتیش کاروں کو کچھ دستاویزات ہاتھ لگے ہیں جِن سے پتا چلتا ہے کے اُس کے غائب ہونے میں، اُس کے بقول، امریکی دخل اندازی کا ثبوت ملتاہے۔

اِس سال کے آغاز میں امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک اے بی سی نے خبر دی تھی کہ امیری نےسینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کی مدد کی خاطر ملک بدری اختیار کرلی ہے۔

XS
SM
MD
LG