رسائی کے لنکس

امریکہ: افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی تردید


فائل

فائل

'وہائٹ ہاؤس' کے بیان سے قبل امریکی محکمۂ خارجہ نے بھی افغان طالبان کے ساتھ امریکہ کے براہِ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کی تھی۔

امریکہ نے افغان طالبان کے نمائندوں اور امریکی حکام کے درمیان متوقع ملاقات کی خبروں کی تردید کردی ہے۔

'وہائٹ ہاؤس' اور امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے جانے والے الگ الگ بیانات میں واضح کیا گیا ہے کہ افغان طالبان اور امریکی حکومت کے نمائندوں کے درمیان جمعرات کو قطر میں کوئی ملاقات نہیں ہورہی۔

'وہائٹ ہاؤس' کی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان برناڈے میہن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں افغان حکومت کے زیرِ قیادت مفاہمتی عمل کی حمایت کرتا ہے جس کے تحت طالبان اور افغان نمائندے بات چیت کے ذریعے تنازع کا حل نکال سکیں۔

'وہائٹ ہاؤس' کے بیان سے قبل امریکی محکمۂ خارجہ نے بھی افغان طالبان کے ساتھ امریکہ کے براہِ راست مذاکرات کی خبروں کی تردید کی تھی۔

ذرائع ابلاغ کو جاری کیے جانے والے ایک مختصر بیان میں محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا ہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان براہِ راست رابطوں کا سلسلہ جنوری 2012ء میں منقطع ہوگیا تھا جو تاحال بحال نہیں ہوا ہے۔

بیان کے مطابق امریکہ افغانستان میں فریقین کے درمیان ایسے مفاہمتی عمل کا حامی ہے جس کی قیادت افغان نمائندوں کے ہاتھ میں ہو اور جسے افغانستان کے مقامی لوگ تسلیم بھی کریں۔

جمعرات کو بعض مغربی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا تھا کہ طالبان اور امریکی حکام کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور قطر کے درالحکومت دوحا میں ہورہا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے کہا تھا کہ اسے قطر میں موجود افغان طالبان کے ایک نمائندے نے ٹیلی فون کے ذریعے فریقین کے درمیان دوحا میں ہونے والی متوقع ملاقات کی اطلاع دی ہے۔

'رائٹرز' نے جمعرات کو اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اسے پاکستانی فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے بھی بتایا ہے کہ افغان طالبان امن مذاکرات کے آغاز پر آمادہ ہیں۔

خبر رساں ادارے نے فوجی افسر کی شناخت ظاہر کیے بغیر دعویٰ کیا تھا کہ طالبان نے اپنی آمادگی کا اظہار پاکستانی فوج کے ذریعے کیا ہے جس کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے رواں ہفتے دورۂ کابل کے دوران افغان صدر اشرف غنی کو اس پیش رفت سے آگاہ کردیا ہے۔

'رائٹرز' کے مطابق پاک فوج کے افسر کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل کی بحالی کے معاملے پر مارچ تک پیش رفت ہونے کا امکان ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں مصالحتی عمل کی حمایت کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ عمل شفاف اور افغانوں کے زیرِ قیادت ہی انجام پانا چاہیے۔

جمعرات کو جاری کیے جانے والے بیان میں فوج نے افغان طالبان کی مذاکرات پر آمادگی اور اس معاملے میں پاکستانی کردار سے متعلق خبروں پر کوئی تبصرہ یا وضاحت نہیں کی ہے۔

XS
SM
MD
LG