رسائی کے لنکس

امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ولیم برنز کا دورہ پاکستان


نائب وزیر خارجہ ولیم برنز

نائب وزیر خارجہ ولیم برنز

ولیم جے برنز کی پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے دوطرفہ اُمور اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ولیم جے برنز نے جمعہ کو پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے الگ الگ ملاقات کی۔

ولیم جے برنز کی پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے دوطرفہ اُمور اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ولیم برنز جمعرات کی شامل اسلام آباد پہنچے تھے اور اپنی آمد کے کچھ دیر بعد ہی اُنھوں نے وزارت خارجہ میں پاکستانی وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اُمور خارجہ طارق فاطمی سے ملاقات کی تھی۔

وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اس ملاقات میں دو طرفہ اُمور کے علاوہ علاقائی صورت حال خاص طور پر افغانستان کے حالات کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی گئی۔

طارق فاطمی نے کہا کہ مختلف شعبوں میں امریکہ سے تعلقات کو پاکستان انتہائی اہم تصور کرتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں وزیراعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ کے بعد دو طرفہ تعلقات مثبت سمت کی جانب آگے بڑھ رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان وزرا کی سطح کے طویل المدت اسٹریٹیجک مذاکرات پاک امریکہ روابط میں مزید بہتری کا سبب بنے۔

دونوں ممالک کے درمیان اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے میں افغانستان کی صورت حال پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان مشاورت کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

طارق فاطمی نے حکومت پاکستان کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کابل میں جمہوری عمل کا حامی ہے اور پڑوسی ملک میں سلامتی کی ذمہ داریوں کی منتقلی علاقائی امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے عہدیداروں نے 2014 کے بعد افغانستان میں امن اور مصالحت کے عمل کے بارے میں اُمور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

تجزیہ کار حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت پاکستان اور امریکہ کے درمیان ان رابطوں کا محور افغانستان میں 2014 کے اواخر کے بعد کی صورت حال ہی ہے۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات حالیہ مہینوں میں بظاہر ہموار اور مثبت رہے ہیں جب کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی اور عسکری روابط میں بھی تیزی آئی ہے۔

امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل لائیڈ آسٹن نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں پاکستان کا دورہ کیا تھا جس میں اُنھوں نے پاکستان کی عسکری قیادت سے ملاقات کی تھی۔
XS
SM
MD
LG