رسائی کے لنکس

’پاکستان کے لیے سویلین امداد کا مستقبل محفوظ‘


امریکی سینیٹرز رچرڈ لوگر اور جان کیری (فائل فوٹو)

امریکی سینیٹرز رچرڈ لوگر اور جان کیری (فائل فوٹو)

امریکی سینیٹ کے رکن رچرڈ لوگر نے کہا ہے کہ پاکستان کو فراہم کی جانے والی سویلین امداد کے استعمال میں بعض مسائل کے باوجود اس پیکج کا مستقبل محفوظ ہے۔

اُنھوں نے یہ یقین دہانی ایسے وقت کرائی ہے جب امریکی کانگریس کے ایک پینل نے پاکستان کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد کو دیسی ساختہ بموں کے پھیلاؤ کے خلاف بین الاقوامی کوششوں میں اس کے تعاون سے مشروط کرنے کی منظوری دی ہے۔

رچرڈ لوگر، جو سینیٹ کی آپمور خارجہ کمیٹی کے اہم رکن ہونے کے ساتھ ساتھ کیری-لوگر-برمن بل کے نام سے منصوب امدادی پیکج کے ایک سپانسر بھی ہیں، کا کہنا کہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان اس اعانت سے استفادے کے سلسلے میں ترجیحات پر اختلاف رائے پایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کو طے شدہ رقم فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔

تاہم اُن کے بقول پیکج کے تحت مختص رقم پاکستان کو فراہمی کے لیے دستیاب رہے گی۔

سینیٹر لوگر کے مطابق سویلین امداد کا یہ پیکج پاک امریکہ تعلقات کی اہمیت کو مدد نظر رکھ کر پیش کیا گیا جو ’’پیچیدہ مگر انتہائی اہم‘‘ ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ اور امریکی قانون ساز اداروں میں موجود ان کے ساتھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی اندرونی سیاست کس قدر پیچیدہ ہے، تاہم ’’اس کے باوجود دونوں ملکوں کو ساتھ رہنا ہوگا‘‘۔

کیری-لوگر-برمن بل کو سینیٹر لوگر کے ساتھ اُمور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان کیری نے پیش کیا تھا، جب کہ امریکی ایوان زیریں یا ہاؤس میں اس کے سپانسر کانگریس مین ہاورڈ برمن تھے۔

سن 2009ء میں پیش کیے گئے اس بل کے تحت پانچ سال میں پاکستان کو ساڑھے سات ارب ڈالر، یعنی ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ کی سویلین امداد دینے پر اتفاق ہوا تھا۔

جب یہ بل منظور کیا گیا تھا تو اکثر مبصرین نے اس کی یہ کہہ کر تعریف کی تھی کہ امریکہ نے اس قانون کے ذریعے پاکستان میں فوج کی جگہ ایک جمہوری حکومت اور نظام کی حمایت کی ہے۔

لیکن دوسری جانب اس کی کچھ شقوں پر تنازعات بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے کیونکہ بعض لوگوں نے اس کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت گردانا تھا۔

ان میں خاص طور پر ایسی شقیں شامل تھیں جن کی حمایت کرنے والوں کی رائے تھی کہ ان کے ذریعے پاکستانی فوج کو ملک کی سویلین حکومت کے تابع رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امدادی پیکج میں یہ شرط بھی لگائی گئی تھی کہ پاکستان اپنی سرزمین پر شدت پسند عناصر کے خلاف اقدامات کرے گا۔

XS
SM
MD
LG