رسائی کے لنکس

اوباما انتظامیہ شام میں کارروائی کرے: امریکی سفارت


اب تک اوباما انتظامیہ شام میں بصدر بشار الاسد اور داعش کے خلاف لڑنے والی باغی فورسز کی محدود سطح پر معاونت کرنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے اس داخلی مراسلے کی تصدیق کی ہے جس میں 50 سے زائد حکام نے شام کی خانہ جنگی سے نمٹنے کے اوباما انتظامیہ کے طریقہ کار پر تنقید کی اور شام کی حکومت کے خلاف فضائی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ دستاویز محکمہ خارجہ میں داخلی سطح پر "انحرافی کیبل" کا حصہ تھی جو کہ ملازمین اور سفارتکاروں کو انتظامیہ کی پالیسی پر بغیر کسی خوف کے اور ردعمل کے اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے اس مراسلے کی تصدیق کی لیکن اس کے مندرجات کے بارے میں نہیں بتایا۔

"ہم محکمہ خارجہ کے ملازمین کے ایک گروپ کی طرف سے شام کی صورتحال سے متعلق تحریر کی گئی انحرافی کیبل سے آگاہ ہیں۔ ہم اس کا اب جائزہ لے رہے ہیں جو کہ حال ہی میں سامنے آئی ہے۔

امریکی روزنامہ "دی نیویارک ٹائمز" کے حاصل ہونے والے اس مراسلے میں اوباما انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ "تنازع اور اسلحہ کو منصفانہ طور پر" استعمال کرتے ہوئے شام کی فوج کو براہ راست مشغول کرے اور اس خانہ جنگی کا جلد خاتمہ کروائے جو اب تک پانچ لاکھ کے لگ بھگ افراد کی زندگیاں نکل چکی ہے۔

اب تک اوباما انتظامیہ شام میں بصدر بشار الاسد اور داعش کے خلاف لڑنے والی باغی فورسز کی محدود سطح پر معاونت کرنے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

امریکہ نے تاحال براہ راست طور پر صدر اسد اور روس کی حمایت یافتہ ان کی فورسز کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔

امریکہ تمام فریقین کی شمولیت سے بات چیت کے ذریعے تنازع کے حل اور شام کے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے پر زور دیتا آیا ہے لیکن اس کے بقول اس میں صدر اسد کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

XS
SM
MD
LG