رسائی کے لنکس

مسٹر ریک شمالی کیرولانا میں قائم ایک خیراتی تنظیم ’ایس آئی ایم‘ کے لیے لائبیریا میں خدمات سر انجام دے رہے تھے۔

امریکہ کے شعبہ صحت سے وابستہ تیسرا اہلکار ایبولا وائرس سے متاثر ہونے پر مغربی افریقہ سے امریکہ واپس پہنچا رہا ہے۔

ریک سیکرا جو افریقی ملک لائبیریا میں کام کر رہے تھے اُنھیں جمعہ کو نیبراسکا میں پہنچنا ہے۔

مسٹر ریک کا ’بائیو کنٹینمنٹ‘ سینٹر میں علاج کیا جائے گا۔

اس سے قبل افریقی ممالک میں کام کے دوران ایبولا سے متاثرہ دو امریکی ’ہیلتھ کئیر‘ ورکر کینٹ برانٹیلی اور نینسی راٹیبول وطن واپس پہنچنے کے بعد اٹلانٹا ایمری یونیورسٹی ہاسپٹل میں زیر علاج رہے۔

مسٹر ریک شمالی کیرولانا میں قائم ایک خیراتی تنظیم ’ایس آئی ایم‘ کے لیے لائبیریا میں خدمات سر انجام دے رہے تھے۔

’ایس آئی ایم‘ کے سربراہ نے کہا کہ مسٹر ریک کو لائبیریا میں قائم صحت کے مرکز میں علاج کی بہترین سہولت فراہم کی گئی لیکن امریکی اسپتال میں زیادہ بہتر آلات اور علاج کی سہولتیں موجود ہیں۔

اُدھر سوئٹزرلینڈ میں لگ بھگ 200 ماہرین مل رہے ہیں جو ایبولا وائرس سے نمٹنے کے لیے علاج اور ویکسین سے متعلق معاملات پر بات چیت کریں گے۔ حالیہ ہفتوں میں مغربی افریقہ کے ممالک میں ایبولا وائرس تیزی سے پھیلا۔

اس مہلک بیماری کے لیے ویکسین اور علاج موجود نہیں ہے البتہ تجرباتی مراحل سے گزرنے والی ایک دوا ا مریضوں کو دی جا رہی ہے۔

عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ کے مطابق مغربی افریقی ممالک میں ایبولا وائرس سے 1900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 3500 افراد متاتر ہوئے جن میں سے اکثریت گنی، لائبیریا، سرالیون کے لوگوں کی ہے۔

XS
SM
MD
LG