رسائی کے لنکس

حکومتی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر اِس نئے نوٹ کو متعارف کرانے کا مقصد یہ ہے کہ جعل سازی کی جدید کوششوں کا انسداد کیا جائے

منگل کے روز سے امریکہ 100 ڈالر کا ایک نیا نوٹ جاری کر رہا ہے، جِس میں اب بھی طویل عرصے سے جاری روایت کی وہی جھلک ہوگی، لیکن ساتھ ہی، اِس میں نئی تراکیب متعارف کرائی جا رہی ہیں، تاکہ جعل ساز اِس کی نقل تیار نہ کر سکیں۔

امریکہ کی طرف سے چھاپہ جانے والا 100 ڈالر کا یہ نوٹ دنیا کی بینکوں کا سب سے زیادہ قابل قبول نوٹ ہے، جِس کی آٹھ ارب سے زائد، یعنی آدھی یا دو تہائی تعداد، امریکہ سےباہر کے ملکوں میں گردش میں ہے۔

موجودہ سبز مائل رنگ کے 100 ڈالر کے نئے نوٹ کے ایک طرف بینجامن فرینکلن سے ملتی جلتی تصویر ہوگی، جو دو صدیاں قبل امریکی انقلاب کے ایک راہنما تھے۔ نوٹ کی دوسری طرف، فلاڈیلفیا کے مشرقی شہر کے ’انڈی پنڈینس ہال‘ کی تصویر ہوگی۔

تاہم، نوٹ کے ایک کونے پر 100 کا عدد لکھا ہوگا جو زرد رنگ مائل ہوگا؛ اور فرینکلن کے بعد، بنفشی پرندے کے بازو اور پیتل کی دوات ہوگی؛ اور اِس کا رنگ گہرے سرخ، زرد و سیاہ سے سبز رنگ کی شکل اختیار کرتا ہے، جِس کا دارومدار اِس بات پر ہے کہ اِسے کس زاوئے سے دیکھا جاتا ہے۔

اِس میں نیلے رنگ کی ایک ربن بھی ہے، جو نوٹ کےاوپر سے نیچے تک جاتا ہے، جِس میں 100کا عدد، اور گہرے نیلے رنگ میں چھوٹے لبرٹی بیلز واضح دکھتے ہیں۔

حکومتی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر اِس نئے نوٹ کو متعارف کرانے کا مقصد یہ ہے کہ جعل سازی کی جدید کوششوں کا انسداد کیا جاسکے؛ جب کہ گردش میں رہنے والے پرانے نوٹوں کی قانونی حیثیت برقرار رہے گی۔

گذشتہ ایک دہائی کے اندر اندر امریکہ نے تقریباً اپنی تمام کرنسی کو دوبارہ ڈزائن کیا ہے، ماسوائے 1 اور 2 ڈالر کے نوٹوں کے۔
XS
SM
MD
LG