رسائی کے لنکس

داخلی دہشت گردی کا توڑ، محکمہٴانصاف کا نیا طریقہٴ کار


فائل

فائل

جان کارلن بقول، ’نفرت کی مختلف النوع وجوہ کی بنا پر داخلی طور پر جنم لینے والے کسی انتہاپسند کو پُرتشدد راہ پر لگایا جا سکتا ہے، جن میں حکومت مخالف رائے زنی، نسل پرستی، کٹَرپَن، طوائف الملوکی اور دیگر قابلِ حقارت سوچ ہو شامل سکتی ہے‘

امریکہ میں بڑھتے ہوئے داخلی دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام اور باضابطہ چھان بین کا نظام ترتیب دینے اور عمل درآمد کے لیے، امریکی محکمہٴانصاف میں ایک عہدہ قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

’نیشنل سکیورٹی ڈویژن‘ میں قانون کے نفاذ سے متعلق ادارے کے سربراہ، جان کارلن نے بدھ کے روز جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے ایک گروپ کو بتایا کہ یہ نیا اہل کار، جن کے نام کا ابھی اعلان نہیں ہوا، وہ اُس نئی حکمت عملی کے ضابطہٴ کار کی قیادت کریں گے، جس کا مقصد امریکہ کے اندر کیے جانے والے نئے حملوں کو ناکام بنانے کے کام کی نگرانی کرنا اور مشتبہ دہشت گردون کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر نگاہ رکھنا ہے۔

کارلن نے کہا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران، بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کے مقابلے میں داخلی انتہا پسندی کے واقعات میں زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اِس ضمن میں، اُنھوں نے کہا کہ اس سال کے اوائل میں ایک حقارت آمیز واقعے میں برتری کے دعوے دار ایک سفید فام شخص نے جنوبی کیرولینا کے شہر چارلسٹن کے گرجا گھر میں گولیاں چلا کر نو افریقی امریکیوں کو ہلاک کیا تھا۔
کارلن نے بقول، ’نفرت کی مختلف النوع وجوہ کی بنا پر داخلی طور پر جنم لینے والے کسی انتہاپسند کو پُرتشدد راہ پر لگایا جا سکتا ہے، جن میں حکومت مخالف رائے زنی، نسل پرستی، کٹَرپَن، طوائف الملوکی اور دیگر قابلِ حقارت سوچ ہو شامل سکتی ہے‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’کسی واحد نظرئے کو غالب قرار نہیں دیا جا سکتا‘۔

کارلن نے کہا کہ محکمہٴانصاف کا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ امریکہ میں آئینی طور پر آزادی اظہار کو دیے گئے تحفظ کو ختم کیا جائے۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ ادارہ خطاب اور تشدد کی باریک تفریق پر دھیان مرکوز رکھے گا۔


XS
SM
MD
LG