رسائی کے لنکس

پاک افغان سرحد پر ڈرون حملے میں کم از کم چار 'شدت پسند' ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اطلاعات کے مطابق اس میں القاعدہ کا ایک اہم رکن بھی مارا گیا ہے۔ لیکن پاکستانی فوج کے مطابق اتوار کو پاکستانی علاقے میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں کم ازکم چار مبینہ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق افغان سرحد سے ملحقہ علاقے دتہ خیل کے گاؤں کھڑ تنگے میں اتوار کی صبح ڈرون سے ایک گھر پر دو میزائل داغے گئے۔

تاہم پاکستانی فوج کی طرف سے جاری ایک مختصر بیان میں بتایا گیا کہ اتوار کو پاکستانی علاقے میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔

مرنے والوں کی شناخت کے بارے میں فوری طور پر مصدقہ معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں تاہم مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر آ رہی ہے کہ اس میں القاعدہ کا ایک اہم رکن عمر فاروق بھی مارا گیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کی ان قبائلی علاقوں میں رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں پیش آنے والے واقعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

شمالی وزیرستان القاعدہ سے منسلک طالبان کا ایک مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا رہا ہے جہاں پاکستانی فوج نے جون کے وسط سے ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

ان کارروائی میں اب تک 1200 سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک اور ان کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

ایک روز قبل ہی پاکستانی فوج نے تصدیق کی تھی کہ شمالی وزیرستان میں کارروائیوں سے فرار ہو کر جنوبی وزیرستان میں روپوش ہونے والے القاعدہ کے اہم رہنما عدنان الشکری جمعہ کو چھاپہ مار کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف یہ کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردوں کو پاکستان میں کہیں بھی چھپنے نہیں دیا جائے گا اور ان کے مکمل خاتمے کے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

اتوار کو ہونے والے ڈرون حملے پر تاحال پاکستان کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن اسلام آباد شروع ہی سے ڈرون حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی بندش کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

امریکہ ڈرون حملوں کو دہشت گردوں کے خلاف ایک موثر ہتھیار گردانتا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ ان حملوں میں کئی اہم دہشت گرد رہنما مارے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG