رسائی کے لنکس

صدر براک اوباما کے سینیئر مشیر برائے انسدادِ دہشت گردی جان برینن نے ڈرون حملوں کو 'لیزر اور سرجری' سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے عام شہریوں کو نقصان پہنچائے بغیر دہشت گردی کے "کینسر " کے خاتمے میں مدد ملی ہے۔

امریکی انتظامیہ کا ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ بیرونِ ملک کیے جانے والے امریکی ڈرون حملوں کا قانونی اور اخلاقی جواز موجود ہے اور یہ حملے امریکہ کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کا ایک دانشمندانہ طریقہ ہیں۔

پیر کو واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر براک اوباما کے سینیئر مشیر برائے انسدادِ دہشت گردی جان برینن نے ڈرون حملوں کو 'لیزر اور سرجری' سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے عام شہریوں کو نقصان پہنچائے بغیر دہشت گردی کے "کینسر " کے خاتمے میں مدد ملی ہے۔

برینن نے ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس اس سے قبل ایسا کوئی ہتھیار موجود نہیں تھا جس کے ذریعے انتہائی احتیاط سے متعین کردہ کسی القاعدہ راہنما کو ایسے نشانہ بنایا جاسکتا ہو جس میں دیگر لوگوں کی ہلاکت کا امکان کم سے کم ہو۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ اوباما انتظامیہ کسی بھی ہدف کے خلاف ہلاک خیز طاقت کے استعمال کا فیصلہ "انتہائی ممکنہ معیارات" کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کرتی ہے۔

انہوں نے تقریب کے شرکا کو بتایا کہ حکام کی جانب سے ہدف منتخب کیے جانے کے بعد یہ جانچا جاتا ہے کہ وہ امریکی مفادات کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے اور آیا مطلوب فرد کی گرفتاری کا کوئی راستہ موجود ہے۔

امریکی صدر کے مشیر نے کہا کہ جن ممالک میں یہ ڈرون حملے کیے جاتے ہیں ان میں سے بیشتر کی حکومتیں ان میں تعاون کرتی ہیں۔ لیکن انہوں نے واضح کیا کہ اگر متعلقہ حکومت مطلوبہ ہدف کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرتی، یا کرسکتی، تو ان کےبقول امریکہ "انسانی جان لینے پر مجبور" ہوتا ہے۔

برینن نے کہا کہ وہ ان اہدافی ہلاکتوں کی کاروائیوں کو اتنی تفصیل سے اس لیے بیان کر رہے ہیں کیوں کہ پاکستان میں امریکی اسپیشل کمانڈوز کے ہاتھوں القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا ایک برس مکمل ہونے کے موقع پر اوباما انتظامیہ چاہتی ہے کہ اس نوعیت کی کاروائیوں کی تفصیلات عوام کے علم میں لائی جائیں۔

واضح رہے کہ امریکہ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کر رہا ہے جنہیں پاکستانی حکومت اپنی خود مختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے ان کے خاتمے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

حکومتِ پاکستان کا موقف ہے کہ ان حملوں میں عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی ماری جارہی ہے جس کے نتیجے میں پاکستانی معاشرے میں امریکہ مخالف جذبات پروان چڑھ رہے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG