رسائی کے لنکس

یمن: امریکی ڈرون حملے میں چار شدت پسند ہلاک


یمن کے فوجی اور پولیس افسران دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں کی حمایت میں نعرے لگا رہے ہیں

یمن کے فوجی اور پولیس افسران دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں کی حمایت میں نعرے لگا رہے ہیں

یمن کے مختلف علاقوں میں سرگرم شدت پسندوں پر گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی ڈرون کا یہ تیسرا حملہ تھا۔

یمن میں ایک امریکی ڈرون کے حملے میں 'القاعدہ' سے تعلق رکھنے والے چار مشتبہ شدت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

یمن کے سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون حملہ پیر کو صوبہ بیدا میں کیا گیا۔ امریکی ڈرون نے ایک کار کو نشانہ بنایا جس پر، حکام کے مطابق، اسلحہ اور گولہ بارود لدا ہوا تھا۔

یمن کے مختلف علاقوں میں سرگرم شدت پسندوں پر گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی ڈرون کا یہ تیسرا حملہ تھا۔

گزشتہ ہفتے امریکی صدر براک اوباما نے اعلان کیا تھا کہ یمن میں شیعہ حوثی باغیوں کے دارالحکومت پر قبضے سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے باوجود یمن میں جاری انسدادِ دہشت گردی کی امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق امریکہ یمن میں 2009ء سے اب تک 100 سے زائد ڈرون حملے کرچکا ہے جن میں سیکڑوں مشتبہ شدت پسندمارے گئے ہیں۔

حوثی باغیوں کے دارالحکومت پر قبضے اور سرکاری امور میں مداخلت کے خلاف یمن کے صدر عبدالرب منصور ہادی اور ان کی حکومت کے وزرا گزشتہ ماہ بطورِ احتجاج مستعفی ہوگئے تھے جس سے ملک میں سیاسی بحران کھڑا ہوگیا ہے۔

حوثی باغی اپنے رضاکاروں کی فوج اور پولیس میں بھرتی اور حکومت میں زیادہ حصہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

باغی رہنماؤں نے اتوار کو یمن کی مرکزی سیاسی جماعتوں کو صدر ہادی اور ان کے وزیرِاعظم کے استعفوں سے پیدا ہونے والے بحران کو تین دن کے اندر حل کرنے کی دھمکی بھی دی تھی لیکن تاحال بحران کے حل کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔

یمن کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ہادی اور ان کی کابینہ کے ارکان کو باغیوں نے دارالحکومت صنعا میں واقع ان کی رہائش گاہوں پر عملاً نظر بند کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG