رسائی کے لنکس

قبائلی انتظامیہ کے عہدیداروں کے بقول ان علاقوں میں ایک شدت پسند تنظیم نے اپنے ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے ملحقہ افغانستان سرحدی علاقے میں بدھ کی صبح مبینہ امریکی ڈرون سے مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے انتظامی عہدیداروں کے مطابق یہ حملہ سرحد کے قریب افغان علاقے نازیان میں ہوا۔

ان کے بقول ان علاقوں میں ایک شدت پسند تنظیم نے اپنے ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ڈرون حملے میں ان ہی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں اس حملے میں ہلاکتوں کی تعداد تین سے دس کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔

لیکن جس علاقے میں یہ میزائل حملہ ہوا، وہاں تک ذرائع ابلاغ کو رسائی نہیں اس لیے ہلاکتوں کی درست تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

افغان حکام یا وہاں تعینات اتحادی افواج کی طرف سے اس واقعے سے متعلق تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ پاک افغان سرحد پر دونوں جانب القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں نے اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں جہاں سے وہ غیر ملکی افواج کے علاوہ مقامی سکیورٹی فورسز پر ہلاکت خیز حملے کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی مشتبہ امریکی ڈرون طیاروں سے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے لیکن بغیر ہواباز کے جاسوس طیارے سے پاکستانی علاقے میں آخری حملہ گزشتہ سال دسمبر میں ہوا تھا۔

پاکستانی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کیا تھا جو کہ فی الوقت تعطل کا شکار ہے۔

پاکستانی علاقوں میں ڈرون حملے نہ ہونے کی امریکہ کی طرف سے کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی لیکن عام تاثر یہی ہے کہ یہ بندش مذاکراتی عمل کے تناظر میں رونما ہوئی۔
XS
SM
MD
LG