رسائی کے لنکس

پیو سروے کے مطابق 35 امریکی ان حملوں کے خلاف ہیں۔ سروے کے لیے امریکہ کی 50 ریاستوں میں 2000 کے قریب لوگوں کے 12 سے 18 مئی کے درمیان ٹیلی فون کے ذریعے انٹرویو کیے گئے۔

تحقیق اور رائے عامہ پر مشتمل جائزے کرنے والے امریکی تھنک ٹینک ’پیو‘ کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 58 فیصد امریکی شدت پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔

امریکہ کئی سالوں سے پاکستان، افغانستان اور یمن جیسے ممالک میں شدت پسندوں کو بغیر ہوا باز کے جاسوس طیاروں یعنی ڈرون سے نشانہ بنا رہا ہے۔

پیو سروے کے مطابق 35 امریکی ان حملوں کے خلاف ہیں۔ سروے کے لیے امریکہ کی 50 ریاستوں میں 2000 کے قریب لوگوں کے 12 سے 18 مئی کے درمیان ٹیلی فون کے ذریعے انٹرویو کیے گئے۔

تازہ ترین سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران ڈرون حملوں کے بارے میں امریکی عوام کی رائے میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔

فروری2013میں بھی اس پالیسی کے بارے میں امریکی عوام کی رائے جاننے کے لیے سروے کیا گیا جس میں 56 فیصد امریکیوں نے ان حملوں کی حمایت کی تھی۔

ڈرون حملوں کے بارے میں امریکہ اور پاکستان میں متضاد رائے پائی جاتی ہے۔

گزشتہ ماہ صدر اوباما نے اعلان کیا تھا کہ اس سال جنوری میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب ایک ڈرون حملے میں شدت پسندوں کی حراست میں ایک امریکی اور ایک اطالوی باشندہ بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

اس اعلان کے بعد امریکہ میں ڈرون حملوں کی افادیت اور ان میں عام شہریوں، خصوصاً امریکیوں کی ہلاکت کے بارے میں شدید بحث کا آغاز ہو گیا تھا۔

پاکستان کی حکومت اور فوج قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کی مذمت کرتی رہی ہے۔ ایک حالیہ بیان میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ ڈرون حملے پاکستان کی علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر عبدالقیوم نے کہا اگر امریکہ کے پاس شدت پسندوں کے خلاف کوئی معلومات ہوں تو وہ پاکستان کو دے تاکہ وہ ان شدت پسندوں کے خلاف خود کارروائی کرے۔

پاکستان کی فوج گزشتہ سال جولائی سے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے اور علاقے کو کافی حد تک شدت پسندوں سے صاف کر چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG