رسائی کے لنکس

مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ افریقہ میں یہ موذی مرض پھیل رہا ہے، جس سےاس بات کی ضرورت واضح ہوتی ہے کہ اس مرض سے نبردآزما ہونے کے لیے کام جاری رکھا جائے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ایبولا سے نمٹنے کے سلسلے میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، حالانکہ امریکہ اِس وائرس کےتشخیص شدہ مریضوں کا کامیابی سے علاج کر چکا ہے۔


اُنھوں نے یہ بات منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں ’ایبولا ریسپانس ٹیم‘ کی بریفنگ کے دوران اپنے کلمات میں کہی۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ افریقہ میں یہ موذی مرض پھیل رہا ہے، جس سےاس بات کی ضرورت واضح ہوتی ہے کہ اس مرض سے نبردآزما ہونے کے لیے کام جاری رکھا جائے۔

بقول اُن کے،’ اِس سے اس ضرورت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ہمیں تب تک کوششیں جاری رکھنی ہوں گی، جب تک اُس خطے سے اس بیماری کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا‘۔

اُنھوں نے کہا کہ جب تک مغربی افریقہ میں اس بیماری کو پھیلنے سے نہیں روکا جاتا، تب تک دنیا کو کسی نہ کسی طور پر یہ خدشہ لاحق رہے گا۔

منگل ہی کے روز، امریکی کانگریس کے ارکان مغربی افریقہ کی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں، تاکہ ایبولا وائرس سے محفوظ رہنے کی تدابیر پر غور کیا جا سکے، جِن میں طبی ضروریات، انتظام اور مرض سے آگہی کے اقدامات شامل ہیں۔


افریقہ اور عالمی صحت پر ایوان کی قائمہ کمیٹی کی سماعت کے دوران، ’انٹرنیشنل میڈیکل کور‘ سے تعلق رکھنے والے، بغیر نفع نقصان کام کرنے والے ادارے کے ایک اہل کار، ربیح طوربے نے کہا کہ بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدام کے علاوہ، مستقبل میں کسی وبا کے پھوٹنے کی صورت میں ہنگامی تیاری کی ضرورت واضح ہوتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ مغربی افریقہ میں صحت کی بنیادی خدمات کی دستیابی کی صورت حال کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، نہ صرف ایبولا سے نمٹنے کے لیے، بلکہ ملیریا اور دیگر امراض سے نبردآزما ہونے، اور بچوں کی پیدائش سے متعلق بہتر سہولتیں فراہم کرنے میں مدد دینے کے سلسلے میں۔

XS
SM
MD
LG