رسائی کے لنکس

صدر اوباما نے کہا ہے کہ 1500 امریکی فوجی اہل کار پہلے ہی مغربی افریقہ سے وطن واپس آچکے ہیں۔۔۔ تاہم، اُنھوں نے واضح کیا کہ باجود یہ کہ فوجی واپس آ رہے ہیں، ایبولا پر قابو پانے کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ایبولا کے وبائی مرض کے انسداد کے لیے مغربی افریقہ میں تعینات زیادہ تر امریکی فوجی ملک واپس آ رہے ہیں۔

اس بیماری کے وائرس کی روک تھام کے لیے امریکہ نے اپنے 3000 فوجی اہل کار تعینات کیے تھے، جنھوں نے ایبولا سے بچاؤ اور دیگر زیریں ڈھانچے کی فراہمی کی سہولیات میسر کی تھیں۔

بدھ کو واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے، مسٹر اوباما نے کہا کہ کیونکہ یہ فوجیں مؤثر ثابت ہوئی ہیں، اس لیے ماسوائے 100 فوجیوں کے، 30 اپریل تک تمام اہل کار واپس ملک آجائیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ اِن میں سے 1500 اہل کار پہلے ہی وطن واپس آچکے ہیں۔

صدر نے کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ باجود یہ کہ فوجی واپس آ رہے ہیں، ایبولا پر قابو پانے کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔

اُنھوں نے کہا کہ اب توجہ اس بات پر دی جارہی تھی کہ بیماری کو صفر کی سطح تک لایا جائے، کیونکہ، بقول اُن کے، ’ہر کیس ایک انگارہ ہے‘، جس سے بیماری پھر پھوٹ سکتی ہے۔

مغربی افریقہ میں باقی ماندہ امریکی فوجیں لائبیریا کی فوج، علاقائی ساجھے داروں اور امریکی شہریوں کے ساتھ مل کر، ایبولا کے خاتمے کی کوششیں جاری رکھیں گی۔

یہ ایبولا پھیلنے کا دنیا کی تاریخ کا بدترین دور تھا جس میں تقریباً 9000 افراد ہلاک ہوئے۔

گِنی، لائبیریا اور سیریا لیون کو اس بیماری نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ کئی ہفتوں کے دوران بیماری میں کمی کے بعد، گذشتہ دو ہفتوں میں اس کے کیسز میں پھر اضافہ ہوا ہے۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ اس بیماری کے انسداد کے حوالے سے کوئی بھی ملک اپنے آپ کو جدا نہیں کرسکتا۔ اُن کے بقول، ’ہم اپنے ملک کے گرد خندق نہیں کھود سکتے‘۔ برعکس اس کے، ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے پاس صحت کے بنیادی نظام موجود ہوں۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ خیراتی کام نہیں۔ لیکن، یہ کام خود امریکہ کی بہترین مفاد میں ہے۔

عالمی ادارہ برائے صحت نے متنبہ کیا ہے کہ بیماری کی مکمل روک تھام کی راہ میں چیلنج حائل ہیں اور مغربی افریقہ کے عوام پر زور دیا کی وائرس کو بڑھنے سے روکنے کے لیے اقدامات پر عمل درآمد کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG