رسائی کے لنکس

ساڑھے تین برس میں پہلی بار، تعمیر شدہ اور زیر ِاستعمال گھروں کی فروخت میں اپریل کے مہینے میں کافی تیزی آئی

امریکہ میں جہاں اپریل کے مہینے میں نئے گھروں کی خرید و فروخت نے زور پکڑا وہیں گھروں کی قیمتوں میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

امریکی محکمہٴ کاروبار کا کہنا ہے کہ نئے تعمیر شدہ گھروں کی خرید و فروخت میں گذشتہ ماہ کے مقابلے میں دو فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا، جو گذشتہ برس اِسی ماہ 29 فیصد کی سطح سے زائد تھا۔ درمیانی سطح کے گھروں کی قیمت 271600 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سود کی شرح میں خاطرخواہ کمی اور روزگار کے حصول کی بہتر ہوتی ہوئی صورتحال گھروں کی خرید و فروخت میں اضافہ کا سبب بنی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر گھروں کی فروخت اِسی طرح جاری رہی تو ایک برس میں 454000 گھر فروخت ہوں گے۔ بے شک گھروں کی فروخت کی یہ صورتحال بہتر ہے، مگر بہت سے ماہرین کی رائے ہے کہ یہ ہاوٴسنگ مارکیٹ کے معیار کو نظر میں رکھتے ہوئے بہت ہی کم ہے۔

ساڑھے تین برس کےدوران پہلی بار، تعمیر شدہ اور زیر ِاستعمال گھروں کی فروخت کے معاملے میں اپریل کے مہینے میں کافی تیزی دیکھی گئی۔

جمعرات کی صبح جاری ہونے والی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق، امریکہ بھر میں بے روزگاری الاوٴنس کے لیے نام لکھوانے والے 340000 حضرات میں گذشتہ ہفتہ 23000 کی کمی واقع ہوئی۔

امریکی مرکزی بینک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملازمتوں کی دستیابی اب بھی بہت کم ہے۔

فیڈرل ریزرو بینک کے چئیر مین، بین برنانکے نے بدھ کے روز گانگریس کے ارکان کو بتایا کہ بینک اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایسے پروگراموں کو کچھ عرصہ تک جاری رکھے گا۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں بے روزگاری کی شرح 7 عشاریہ 5 فیصد ہو گئی ہے، جو گذشتہ چار برسوں میں تو کم ترین ہے، مگر ویسے معمول سے کہیں زیادہ ہے۔

XS
SM
MD
LG