رسائی کے لنکس

امریکہ میں انتخاب کے دن میں اب پانچ مہینے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ ماہرین کہتےہیں کہ اس سال کے صدارتی انتخاب میں دونوں امید واروں کے درمیان برابر کا مقابلہ ہوگا، اور امریکی معیشت کی کمزور حالت اس انتخاب پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

ریاست میسا چوسٹس کے سابق گورنر، مِٹ رومنی، کے بارے میں جو ریپبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ہوں گے، جوش و خروش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’اس مقابلے پر نظر ڈالیے۔ یہ مقابلہ صرف سیاست یا افراد کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ مقابلہ ہمارے ملک کے مستقبل کی راہ کے بارے میں ہے۔میں امریکہ کو مضبوط رکھوں گا، اور میں ہر لحاظ سے اس ملک کے اس عہد کی پابندی کروں گا کہ یہ متحد اور خدا کے زیرِ سایہ رہے گا۔‘‘

امریکہ میں حال ہی میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 8.2 فیصد ہو گئی ہے، اور بازارِ حصص میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ملکی معیشت کے استحکام کے بارے میں نئے شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ نومبر میں رومنی اور صدر اوباما کے درمیان مقابلے میں، یہ چیزیں کلیدی کردار ادا کریں گی۔

اس کے علاوہ، پچھلے چار برسوں کے مقابلے میں، جب مسٹر اوباما نے اپنے ریپبلیکن حریف، سینیٹر جان مکین کو شکست دی تھی، اس سال کے انتخاب کے بارے میں ریپبلیکنز میں جوش و خروش کہیں زیادہ ہے۔

واشنگٹن میں بیپارٹیسن پالیسی سینٹر کے جان فارٹیئر کہتے ہیں کہ ’’ظاہر ہے کہ 2008ء کے مقابلے میں ریپبلیکنز میں توانائی زیادہ ہوگی۔ 2008ء میں ڈیموکریٹس میں جوش و جذبہ بہت زیادہ تھا اور ریپبلیکنز بجھے ہوئے تھے۔ میرے خیال میں 2012ء کے انتخاب میں دونوں پارٹیاں جوش و جذبے سے بھر پور ہوں گی۔‘‘

فارٹیئر کہتے ہیں کہ ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والے ریپبلیکنز کی تعداد میں جو بہتری آئی ہے، اس کا مظاہرہ حال ہی میں ریاست وسکانسن میں ہوا جہاں ریپبلیکن گورنر اسکاٹ واکر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔

وسکانسن میں ووٹ ڈال کر نکلنے والوں کی رائے کے سروے سے ڈیموکریٹس کا حوصلہ بڑھا کیوں کہ اس سے پتہ چلا کہ ووٹرز اب بھی صدر کے دوبارہ انتخاب کے حامی ہیں۔ لیکن اوباما کے بہت سے حامیوں کی اس تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے کہ امریکی معیشت کی کمزور حالت سے نومبر کے انتخاب سے وابستہ اُمیدیں غلط ثابت ہو سکتی ہیں۔

صدر اوباما کی کوشش ہے کہ لوگوں کی توجہ ریپبلیکنز پر رہے۔ وہ ریپبلیکنز کو الزام دے رہے ہیں کہ انھوں نے کانگریس میں ان کے اس قانون کو بلاک کر دیا ہے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’مستقبل کے لیے ہمارے جو الگ الگ منصوبے ہیں، ان پر بحث کرنے کے لیے ہمارے پاس بہت وقت ہے۔ میں اس بحث میں ضرور حصہ لینا چاہتا ہوں۔ لیکن فی الوقت، اس شہر کے لوگوں کو اپنی پوری توجہ اس طرف مرکوز کرنی چاہیئے کہ ہم اپنی اقتصادی بحالی کو جاری رکھنے کے لیے ، اور اپنے ملک کو مضبوط بنانے کے لیے، ہر ممکن کوشش کریں۔‘‘

تجزیہ کار جان فارٹیئر کہتے ہیں کہ اگر حالیہ مایوس کن اقتصادی رجحانات جاری رہتے ہیں، تو صدر کی پریشانی بہت بڑھ جائے گی۔ ان کے مطابق ’’میرے خیال میں ایک عام ووٹر تو یہی کہے گا کہ کیا حالات صحیح سمت میں جا رہے ہیں؟ شاید وہ اتنے اچھے نہیں جتنے ہونے چاہئیں۔ شاید بے روزگاری کی شرح اونچی ہے۔ لیکن کیا حالات کچھ بہتر ہو رہے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہوا تو یہ صدر کے لیے اچھا ہو گا۔ لیکن اگر لوگ معیشت کے بارے میں زیادہ پُر اُمید نہ ہوئے، تو پھر یہ مٹ رومنی کے لیے اچھا ہو گا۔‘‘

گیلپ کے پولسٹر فرانک نیو پورٹ اس خیال سے متفق ہیں کہ اس انتخاب کا فیصلہ معیشت کی حالت سے ہو گا۔ وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے خیال میں نومبر میں دونوں پارٹیوں کے ووٹ تقریباً برابر برابر ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’’گذشتہ تین انتخابات میں سے دو میں دونوں پارٹیوں کو ملنے والے ووٹوں کے درمیان بہت کم فرق رہا ہے۔ 2000ء میں یہ فرق اتنا کم تھا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوا۔ 2008ء میں اوباما کو نیشنل ووٹ میں تقریباً سات پوائنٹس سے فتح حاصل ہوئی۔ اس طرح یہ انتخاب کسی حد تک فیصلہ کن تھا، لیکن اس وقت یہ سابق صدر جارج ڈبلو بش کے خلاف منفی رد عمل تھا۔ لہٰذا ، میرے خیال میں اب امریکہ میں سمےانتخابات میں قدرتی رجحان یہی ہے کہ ان میں مقابلہ تقریباً برابر رہتا ہے۔‘‘

تازہ ترین آل اسٹیٹ/نیشنل جرنل ہارٹ لینڈ مانیٹر پول کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمزور معیشت سے صدر کے دوبارہ منتخب ہونے کے امکانات پر بڑا اثر پڑ رہا ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر کو رومنی پر 41 کے مقابلے میں 44 فیصد کی معمولی سی سبقت حاصل ہے۔ لیکن اس سروے سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ صدر کی کارکردگی کو اچھا سمجھنے والوں کی شرح میں کمی ہوئی ہے۔ اب یہ 51 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد رہ گئی ہے ، جب کہ اب 48 فیصد لوگ صدر کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔

XS
SM
MD
LG