رسائی کے لنکس

امریکی صدارتی انتخاب سے پاکستانی لاتعلق


امریکہ کے 'اسٹریٹجک اتحادی' پاکستان کے عوام کی اکثریت امریکہ میں جاری صدارتی انتخابات کی گہما گہمی اور اس کے متوقع نتائج سے لاتعلق ہے۔

امریکہ میں چند رو ز بعد منگل 6 نومبر کو آئندہ صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے اور موجودہ صدر براک وباما یا ان کے ری پبلکن حریف مٹ رومنی میں سے کوئی ایک آئندہ چار برسوں کے لیے 'سپر پاور' کی قیادت سنبھال لے گا۔

امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج یقیناً پاکستان پر بھی اثر انداز ہوں گے لیکن امریکہ کے اس قریبی 'اسٹریٹجک اتحادی ' ملک کے عوام کی اکثریت امریکہ میں آنے والی ممکنہ سیاسی تبدیلیوں سے لاتعلق ہے۔

چار برس قبل ایسا نہیں تھا۔ سنہ 2008 کے امریکی صدارتی انتخاب میں دنیا کے کئی ممالک کے لوگوں کی اکثریت کی طرح پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کی ہمدردیاں بھی ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امد وار براک اوباما کے ساتھ تھیں۔

لیکن گزشتہ چار برسوں میں بہت کچھ تبدیل ہوگیا ہے۔ صدر اوباما نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کے حوالے سے نسبتاً سخت موقف اپنایا، ملک کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا جب کہ افغانستان میں تعینات امریکی افواج کی سرحد پار کاروائیوں، خصوصاً سلالہ چیک پوسٹ پر حملے اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے ایبٹ آباد میں کیے جانے والے آپریشن کے باعث پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات عروج پر پہنچے ہوئے ہیں۔
صدر اوباما کی پاکستان سے متعلق پالیسیوں کے باعث پاکستانیوں کی اکثریت ان سے نالاں ہے اور انہیں دوبارہ منتخب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی۔


معین اللہ خان کراچی کے ایک مقامی صحافی ہیں اور نجی ٹی وی چینل 'جیو نیوز'سے منسلک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر اوباما کی پاکستان سے متعلق پالیسیوں کے باعث پاکستانیوں کی اکثریت ان سے نالاں ہے اور انہیں دوبارہ منتخب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی۔

لیکن ان کے بقول ری پبلکن امیدوار مٹ رومنی نے بھی حالیہ صدارتی مباحثے میں پاکستان کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے، اس سے لگتا ہے کہ اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو پاکستان کے ساتھ امریکی رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

معین کہتے ہیں کہ امریکی انتخابی مباحثے اور پاکستان کے بارے میں دونوں امیدواران کے خیالات کو پاکستانی ذرائع ابلاغ میں نمایاں جگہ دی گئی جس کے بعد پاکستان میں یہ سوچ پروان چڑھی ہے کہ امریکہ میں سیاسی تبدیلی سے پاک-امریکہ تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

معاصر نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کی جانب سے حال ہی میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق صدارتی انتخاب سے قبل صرف 14 فی صد پاکستانی مٹ رومنی جب کہ 11 فی صد صدر اوباما کی حمایت کررہے ہیں جب کہ ایک قوی اکثریت دونوں امیدواروں سے نالاں ہے۔

خبر رساں ادارے 'یو پی آئی' کی جانب سے کیے جانے والے ایک حالیہ سروے کے نتائج بھی کچھ مختلف نہیں جس کے مطابق 50 فی صد پاکستانیوں کے نزدیک براک اوباما اور مٹ رومنی کے درمیان کوئی فرق نہیں اور وہ ان دونوں امیدواران کو یکساں طور پر ناپسند کرتے ہیں۔

پاکستانیوں میں صدر اوباما کی یہ غیر مقبولیت اب کوئی نئی بات نہیں۔ چند ماہ قبل سامنے آنے والے 'پیو ریسرچ سروے' میں صرف سات فی صد پاکستانیوں نے صدر اوباما پر اعتماد کا اظہار کیا تھا جب کہ 2009ء میں یہ تعداد 13 فی صد تھی۔

فرحین صادق سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے ایک نجی کالج میں انگریزی پڑھاتی ہیں اور امریکی محکمہ خارجہ کے ایک پروگرام کے تحت امریکہ میں چھ ماہ کی تربیت بھی حاصل کرچکی ہیں۔

فرحین کہتی ہیں کہ انہیں ذاتی طور پر صدر اوباما پسند تھے لیکن ان کی جانب سے پاکستان میں ڈرون حملوں پر اصرار کرنے اور انہیں جاری رکھنےکے بعد وہ اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہوئی ہیں۔
پچاس فی صد پاکستانیوں کے خیال میں براک اوباما اور مٹ رومنی میں کوئی فرق نہیں


ان کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں جہاں ایک جانب عام پاکستانی مارے جارہے ہیں وہیں ردِ عمل میں جنم لینے والے خودکش حملہ آوروں کا خمیازہ بھی پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

فرحین کا کہنا ہے کہ انہیں مٹ رومنی سے بھی کوئی اچھی امید نہیں کیوں کہ ان کے خیال میں امریکہ کی پاکستان سے متعلق پالیسی پینٹاگون اور 'سی آئی اے' بناتے ہیں اور واشنگٹن میں چاہے کوئی بھی تبدیلی آئے، پاکستان سے متعلق امریکہ کی جاری پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی۔
XS
SM
MD
LG