رسائی کے لنکس

’طاقت کے نئے توازن سے دفاعی پالیسیوں میں اہم تبدیلی متوقع نہیں‘

  • ال پیسن

’طاقت کے نئے توازن سے دفاعی پالیسیوں میں اہم تبدیلی متوقع نہیں‘

’طاقت کے نئے توازن سے دفاعی پالیسیوں میں اہم تبدیلی متوقع نہیں‘

امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخاب کی مہم میں تمام تر توجہ داخلی مسائل پر رہی لیکن انتخابی نتائج سے قومی سلامتی پر بھی اثر پڑے گا۔ پھر بھی ماہرین کو یہ توقع نہیں کہ ایوانِ نمائندگان میں ریپبلیکنز کی اکثریت اور سینیٹ میں ان کے ارکان کی تعداد میں اضافے سے افغانستان میں جنگ یا امریکہ کی دوسری دفاعی پالیسیوں میں کوئی اہم تبدیلی آئے گی۔

گذشتہ منگل کو جب امریکی اپنا ووٹ ڈالنے گئے تو ان کی بہت بڑی تعداد نے ملکی معیشت، سرکاری اخراجات اور علاج معالجے کی پالیسی کو سامنے رکھ کر اپنا ووٹ ڈالا۔ لیکن جب بدھ کی صبح انہیں یہ خبر ملی کہ جنوری سے ایوان نمائندگان پر ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول ہوگا اور سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی تعداد کم ہوگئی ہے تو انہیں اندازہ ہوا کہ ا ب ملک کی قومی سلامتی کی پالیسی بھی زیادہ متنازع ہو سکتی ہے ۔

واشنگٹن میں قائم نیشنل سیکورٹی نیٹ ورک کی تجزیہ کار ہیتھر ہرل برٹ کہتی ہیں کہ شاید اب قومی سلامتی کے مسائل کے بارے میں امریکی حکومت کے لیے یک زبان ہو کر بولنا اور زیادہ مشکل ہو جائے۔ ان مسائل میں محکمہ دفاع کا بجٹ شامل ہے جسے امریکی کانگریس نے جنگ کی پالیسی کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے لیکن جس میں اسے بہت کم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ورجینیا کے لیگزنٹن انسٹیویٹ کے لورن تھامس کہتے ہیں کہ دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں میں جنگ کے معاملے پر داخلی طور پر اختلافات ہیں۔ ریپبلیکنز اکثر دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ اس لیے نئی کانگریس میں دفاعی امور میں بیشتر لڑائی محض علامتی ہو گی۔ تھامسن کہتے ہیں کہ ویسے بھی صدر اوباما دفاعی اخراجات میں بہت کم اضافہ کر رہے ہیں۔

صدر کا یہ فیصلہ کہ افغانستان میں امریکی فوجوں میں تیزی سے اضافہ کیا جائے اور پھر اگر حالات اجازت دیں تو جولائی سے بتدریج فوجیں نکالی جائیں سیاسی اعتبار سے دونوں پارٹیوں کے بیشتر ارکان ِ کانگریس کے لیے قابلِ قبول ہو گا۔ اسی طرح کانگریس میں صدر کے اس فیصلے کی بھی کوئی زیادہ مخالفت نہیں ہو گی کہ اگلے سال کے آخر تک، عراق میں امریکی فوجوں کی موجودگی ختم کر دی جائے۔

لیکن تجزیہ کار ہیتھر ہرل برٹ کہتی ہیں کہ ایک اور مسئلہ ایسا ہے جس کے بارے میں امریکی کانگریس میں بہت کچھ کہا جائے گا۔ وہ مسئلہ ہے ایران۔”انتظامیہ کے مقابلے میں امریکی کانگریس میں دونوں پارٹیوں کے ارکان ایران کے بارے میں زیادہ تند و تیز خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ مذاکرات کی افادیت کے بارے میں کانگریس میں بیزاری کا عنصر کہیں زیادہ ہے اور لوگ اس کے لیے تیار نہیں ہیں کہ واقعات کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا جائے اور ایرانی حکومت پر بتدریج دباو بڑھنے دیا جائے“۔


لیکن ہرل برٹ کہتی ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایران کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے لیے لازمی طور پر فوجی کارروائی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں باتیں تو بہت کی جائیں گی لیکن شاید کیا کچھ نہیں جائے گا۔ مشکل یہ ہے کہ بیرونی ملکوں میں، یہ تمیز کرنا مشکل ہوگا کہ خالی باتیں کون سی ہیں اور حقیقت کیا ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ بات شاید بعض دوسرے دفاعی امور پر بھی صادق آئے جن کے بارے میں ریپبلیکنز کو صدر سے اختلاف ہے۔ ان میں گوانتانا مو بے کو بند کرنے اور امریکی فوج میں ہم جنس پرستوں کو کھلے عام کام کرنے کی اجازت دینے کے مسائل شامل ہیں۔ صدر نے کہا ہے کہ وہ موجودہ کانگریس کے آخری اجلاس کو فوج میں ہم جنس پرستوں کے کام کرنے کے قانون کو تبدیل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ اسی اجلاس میں سینیٹ سے نئے سٹارٹ معاہدے کی توثیق حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ اور روس کے نیوکلیئر ہتھیاروں کے ذخائر میں مزید کمی کی گئی ہے ۔

جمعرات کے روز پینٹا گان کے پریس سکریٹری جیف موررال نے کہا کہ دفاعی پالیسی میں روایتی طور پر دونوں پارٹیاں متفق ہوتی ہیں۔ ”ہمیں پوری امید ہے کہ قومی سلامتی کے امور پر ہمیں کئی برسوں سے دونوں پارٹیوں کا جو مکمل تعاون ملتا رہا ہے وہ اس نئی کانگریس کے تحت بھی جاری رہے گا“۔

لیکن ہرل برٹ انتباہ کرتی ہیں کہ داخلی پالیسی کی طرح دو پارٹیوں میں بٹی ہوئی حکومت میں امریکہ کی دفاعی پالیسی بنانا بھی آسان نہیں ہوگا۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ امریکہ کی قومی سلامتی کی پالیسی میں کوئی اہم تبدیلیاں نہیں ہوں گی۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ نئی امریکی کانگریس میں کچھ لوگ دفاعی بجٹ میں کمی کے بارے میں بھی سوچیں لیکن دفاعی بجٹ میں، خاص طور سے جنگ کے زمانے میں کمی کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ فوج کے لیے کوئی بھی پیسہ کم کرنا نہیں چاہتا۔ پھر یہ بھی ہے کہ دفاعی سازو سامان کے پرزے جن فیکٹریوں میں بنتے ہیں، وہ ہر اسٹیٹ میں، اور ملک کی ہر کانگریشنل ڈسٹرکٹ میں پھیلی ہوئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG