رسائی کے لنکس

امریکی وسط مدتی انتخابات میں معیشت اہم ترین عنصر

  • جم میلون

امریکی وسط مدتی انتخابات میں معیشت اہم ترین عنصر

امریکی وسط مدتی انتخابات میں معیشت اہم ترین عنصر

امریکی ووٹر دو نومبر کو نئی کانگریس کا انتخاب کریں گے اور رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال ملکی معیشت انتخاب میں اہم ترین مسئلہ ہوگا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ وسط مدتی انتخا ب میں خارجہ پالیسی کے مسائل اہم کردار ادا نہیں کرتے۔ لیکن نومبر میں اگر ریپبلیکنز نے انتخاب میں کافی نشستیں جیت لیں تو اگلے دو برسوں میں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں آئیں گی۔

سیاسی ماہرین متفق ہیں کہ اگرچہ امریکہ اوراس کے اتحادی ممالک اب بھی افغانستان میں جنگ لڑ رہے ہیں پھر بھی اس سال کے انتخاب میں معیشت اور بے روزگاری کی اونچی شرح اہم ترین مسائل ہوں گے۔ اگر جنگی حالات نے اجازت دی تو صدر اوباما اگلے سال کے وسط سے افغانستان سے امریکی فورسز کی واپسی شروع کرنا چاہیں گے۔ انھوں نے کہا ہے کہ’’ ہماری فوجوں کی واپسی کی رفتار کا انحصار افغانستان کے حالات پر ہوگا اور افغانستان کے لیے ہماری حمایت جاری رہے گی۔ لیکن اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیئے۔ واپسی کا عمل شروع ہو جائے گا کیوں کہ غیر معینہ مدت کی جنگیں نہ ہمارے اور نہ افغانستان کے لوگوں کے مفاد میں ہیں‘‘۔

افغانستان کو اوباما انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں اہم ترین مقام حاصل ہے اور اگرچہ حالیہ مہینوں کے دوران ہلاک و زخمی ہونے والے امریکیوں کی تعدادمیں اضافہ ہوا ہے پھر بھی اس جنگ کےلیے ملک کے اندر حمایت میں کمی نہیں آئی ہے ۔ Quinnipiac یونیورسٹی کے پولسٹرپیٹر براؤن کہتے ہیں کہ’’ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنگ کے بارے میں صدر کی پالیسی کی سب سے زیادہ حمایت ریپبلیکنز اور قدامت پسند گروپ کر رہے ہیں۔ یہ وہ گروپ ہیں جو صدر کے ایجنڈے میں کسی اور چیزکی حمایت مشکل سے ہی کریں گے‘‘۔

اگر نومبر کے انتخابات میں ریپبلیکنز کو مزید نشستیں مل جاتی ہیں جیسا کہ تجزیہ کار پیش گوئی کر رہے ہیں تو اس سے مختصر مدت کے لیے افغانستان کی جنگ کی حمایت میں اضافہ ہو جائے گا۔ لیکن اس سے کانگریس میں ٹکراؤ کا امکان بھی پیدا ہو جائے گا اگر ڈیموکریٹس نے اگلے سال فوجوں کی واپسی شروع کرنے کے لیئے دباؤ ڈالا۔

ریپبلیکنز اپنی انتخابی مہم میں اقتصادی اُمورخاص طور سے ٹیکسوں اور اخراجات میں کمی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ لیکن ریپبلیکن ایجنڈے میں دہشت گردی کے بارے میں سخت پالیسی اختیار کرنا اور زیادہ جامع میزائل ڈیفینس سسٹم کے لیے دباؤ ڈالنا شامل ہے۔ ریاست ٹیکسس کے ریپبلیکن کانگریس مین Mac Thornberry کہتے ہیں کہ ’’ہم نے اپنے دوستوں اور اپنے مفادات کی حفاظت کا عہد کیا ہے۔ ہم میزائل ڈیفینس کے لیے پوری فنڈنگ بحال کر دیں گے اور ایران کے خلاف پابندیوں پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالیں گے‘‘۔

ایوانِ نمائندگان اورسینیٹ میں ریپبلیکنز کو مزید نشستیں ملنے سے قدامت پسند ناقدین کے ہاتھ مضبو ط ہو جائیں گے جو کہتے ہیں کہ ایران کو نیوکلیئر طاقت بننے سے روکنے کے لیے صدر نے کافی اقدامات نہیں کیے ہیں۔ واشنگٹن میں ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے Henry Nau کہتے ہیں کہ’’میرے خیال میں محض پابندیوں سے ان کو اپنا نیوکلیئر پروگرام روکنے پر آمادہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تو اوباما کی سوچ ہے کہ دنیا اس طرح کام کرتی ہے۔ ایرانی تو مسائل کھڑے کرتے رہیں گے‘‘۔

اس وقت بھی 78ہزار سے زائد امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں

اس وقت بھی 78ہزار سے زائد امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں

لیکن عام طور سے خارجہ پالیسی کے بارے میں بحث اس سال کی انتخابی مہم میں زیادہ اہم نہیں ہو گی۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے Thomas Mann کا بھی یہی خیال ہے’’ میرے نقطۂ نظر سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وسط مدتی انتخاب میں خارجہ پالیسی کے بارے میں زیادہ بحث نہیں ہوئی ہے ۔ عراق، بلکہ افغانستان، ایران، مشرقِ وسطیٰ کا ذکر تو ہوتا ہے لیکن انتخابی مہم میں انہیں مرکزی حیثیت حاصل نہیں ہے‘‘۔

اگر نومبر میں ریپبلیکنز کو مزید نشستیں مل جاتی ہیں یا وہ کسی ایک یا دونوں ایوانوںمیں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو پھر انکے پاس اتنی طاقت ہو گی کہ وہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کو زیادہ قدامت پسند رُخ پر ڈال سکیں۔ مثلاً ، قدامت پسند اوباما انتظامیہ پر دباؤ ڈال سکیں گے کہ وہ روس اور چین کے ساتھ معاملات میں زیادہ سخت رویہ اختیار کرے۔

سینیٹ میں ریپبلیکنز کو نشستیں ملنے سے روس کے ساتھ تخفیف اسلحہ کے نئے سمجھوتے کی توثیق میں بھی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

اسٹارٹ ون معاہدے کی مدت گذشتہ سال دسمبر میں ختم ہو گئی اور اوباما انتطامیہ چاہتی ہے کہ نئے سمجھوتے پر جلد ہی سینیٹ میں ووٹنگ ہو جائے۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ سینیٹ میں ریپبلیکنز کو مزید نشستیں ملنے سے نئے معاہدے کے قدامت پسند ناقدین کے حوصلے بلند ہو جائیں گے جن کا خیال ہے کہ نئے معاہدے کی توثیق سے امریکہ کے دفاعی انتظامات کمزور ہو جائیں گے۔ صدر اوباما اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے اس اندیشے کو مسترد کر دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG