رسائی کے لنکس

رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی ووٹروں کے لیے اہم ترین مسئلہ ملکی معیشت ہے، ان کے ملک کی طویل ترین جنگ نہیں۔

ایک عشرے سے زیادہ عرصے کی جنگ کے بعد، افغانستان میں امریکہ کے لوگوں کی دلچسپی بہت کم ہوگئی ہے۔ اس سال کے صدارتی انتخاب کے مقابلے میں، بیشتر توجہ معیشت پر رہی ہے۔

چار سال قبل، امریکہ کے صدارتی انتخاب میں افغانستان کی جنگ نے بڑا اہم کردار ادا کیا تھا ۔ براک اوباما جو اس زمانے میں سینیٹر تھے، انتخابی مہم کے دوران افغانستان کے دورے پر بھی گئے تھے۔

انھوں نے کہا تھا’’میرے خیال میں نائن الیون کے بعد ہم سے جو ایک بہت بڑی غلطی ہوئی وہ یہ تھی کہ ہم نے یہاں، افغانستان میں اپنا کام ختم نہیں کیا، ہم نے اپنی توجہ یہاں مرکوز نہیں کی۔‘‘

لیکن اب، جب ہزاروں لوگ ہلاک و زخمی ہو چکےہیں اور خراب معیشت کے اس دور میں اربوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، تجزیہ کار کہتے ہیں کہ امریکہ کے لوگ تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔

اس سال مارچ کے مہینے میں، جن لوگوں کی رائے پوچھی گئی ان میں سے نصف نے کہا کہ امریکہ کو افغانستان سے اور جلدی نکل آنا چاہیئے اور اپنے خارجہ پالیسی کے مباحثے میں، صدر اوباما اور ان کے مد مقابل مٹ رومنی نے 2014 کے آخر تک امریکہ کی لڑاکا فوج کی مکمل واپسی پر اتفاق کیا۔

صدر اوباما نے کہا’’ہم اب افغانستان سے ذمہ دارانہ انداز سے نکل سکتے ہیں۔ ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ افغان خود اپنی سیکورٹی کی ذمہ داری سنبھال لیں۔‘‘

گورنر مٹ رومنی نے کہا’’ہم کوئی دوسرا عراق نہیں چاہتے۔ ہم دوسرا افغانستان نہیں چاہتے۔ ہمارے لیے یہ صحیح راہ نہیں ہے۔‘‘


افغانستان میں برسر پیکار امریکی فوجی

افغانستان میں برسر پیکار امریکی فوجی

بہت سے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ افغانستان کی حکومت فوری طور پر یا 2014 میں بھی، سیکورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی اہل نہیں ہے۔ لیکن سی اے ٹو او انسٹیٹیوٹ کی مالؤ انوسنٹ کہتی ہیں کہ امریکیوں نے افغانستان سے اسی طرح منہ موڑ لیا ہے جیسے انھوں نے ایک بار پہلے عراق کی جنگ کے دوران کیا تھا ۔

’’وہ جنگ جو کبھی اچھی جنگ سمجھی جاتی تھی، بھولی ہوئی جنگ بن گئی۔ اس کے بعد یہ پھر اچھی جنگ سمجھی جانے لگی، اور اب پھر ایک بار بھولی ہوئی جنگ بن گئی ہے ۔‘‘

رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی ووٹروں کے لیے اہم ترین مسئلہ ملکی معیشت ہے، ان کے ملک کی طویل ترین جنگ نہیں۔ انوسنٹ کہتی ہیں کہ امریکی اب اس نکتے پر پہنچ گئے ہیں جب وہ اپنے ملک کی تعمیرِ نو کرنا چاہتے ہیں، کسی دوسرے کے ملک کی نہیں۔

’’میں سمجھتی ہوں کہ امریکہ کے لوگ جنگ سے اس حد تک تنگ آ چکے ہیں کہ اب انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ بیرونی دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔‘‘

اس دوران، امریکی فوجی افغانستان میں آتے جاتے رہتے ہیں، جب کہ واشنگٹن اور کابل میں کم از کم 2024 تک امریکی امداد جاری رکھی جانے کی تفصیلات پر بات چیت ہو رہی ہے ۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG