رسائی کے لنکس

امریکہ کے لیے مہنگا انتخابی سال

  • جم میلون

امریکہ کے لیے مہنگا انتخابی سال

امریکہ کے لیے مہنگا انتخابی سال

امریکہ میں 2010 بڑا مہنگا انتخابی سال ثابت ہو رہا ہے ۔ انفرادی امیدوار اور سیاسی پارٹیوں کی قومی کمیٹیاں عموماً جو کچھ خرچ کرتی ہیں، اُس کے علاوہ، باہر کے گروپ اس سال کے وسط مدتی انتخاب پر اثر انداز ہونے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔

امریکہ میں انتخابی مہم چلانا بڑا مہنگا کام ہے کیوں کہ کانگریس کی رکنیت کے بیشتر امیدوار زیادہ تر رقم ٹیلیویژن کے اشتہاروں پر خرچ کر دیتے ہیں۔ جب مقابلہ سخت ہوتا ہے، جیسے ریاست نواڈا میں سینٹ کی نشست کا انتخاب ہے، وہاں کروڑوں ڈالر جمع کیے جاتے ہیں اور اپنے حریف امیدوار کے خلاف اشتہاروں پر خرچ کر دیے جاتے ہیں۔ نواڈا میں ٹیلیویژن پر اشتہاروں کی جنگ سینٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر، ہیری ریڈ اور ان کی ریپبلیکن حریف شیرون اینگل کے درمیان لڑی جا رہی ہے ۔

باہر کے گروپوں کی طرف سے، جن کا تعلق کسی مخصوص پارٹی سے نہیں ہے، بہت پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے ۔ 2006 کے وسط مدتی انتخابات میں جتنا پیسہ خرچ کیا گیا تھا، اس سے دگنا پہلے ہی خرچ ہو چکا ہے۔اخراجات میں اضافے کی بڑی وجہ اس سال جنوری میں سپریم کورٹ کا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت کارپوریشنوں اور لیبر یونینوں پر سے یہ پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں کہ وہ ٹیلیویژن اشتہاروں کے ذریعے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کر سکتیں۔ انتخابی مہم کے لیے کانگریس کی رکنیت کے امیدواروں کو براہ راست پیسہ دینے پر وفاقی حکومت کی طرف سے جو حدود مقرر کی گئی ہیں، وہ برقرار ہیں۔ خصوصی مفادات والے گروپوں کی طرف سے جو پیسہ جمع کیا گیا ہے، اس کا بیشتر حصہ ڈیموکریٹس کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اور ڈیموکریٹس اس کے خلاف واویلا کر رہےہیں۔

صدر براک اوباما نے ملک میں ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم کے دوران اس مسئلے کو اٹھایا ہے۔ انھوں نے اس امکان کا ذکر کیا ہے کہ غیر ملکی کارپوریشنیں یا مفادات فنڈ جمع کرنے میں سرگرم ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے’’ان میں اتنی جرأ ت نہیں ہے کہ وہ سامنے آئیں اور اپنی شناخت کو ظاہر کریں۔ یہ انشورنس کمپنیاں ہو سکتی ہیں، وال اسٹریٹ کے بنک ہو سکتے ہیں، بلکہ غیر ملکی ملکیت والی کارپوریشنیں تک ہو سکتی ہیں۔ ہمیں اس کا پتہ نہیں چل سکتا ۔‘‘

ڈیموکریٹس نے کانگریس میں ایک قانون پاس کرنے کی کوشش کی جس کے تحت فنڈز جمع کرنے والے غیر وابستہ گروپوں کے لیے یہ بتانا ضروری ہوتا کہ انتخابی مہم کے لیے پیسہ کہا ں سے آیا ہے ، لیکن انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔اب ڈیموکریٹس اپنے انتخابی اشتہار چلا رہے ہیں جن میں امریکہ کے چیمبر آف کامرس جیسے گروپوں پر تنقید کی گئی ہے کہ وہ ریپبلیکنز کی مدد کے لیے پیسہ اکٹھا کر رہے ہیں۔ چیمبر آف کامرس نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ ریپبلیکن امیدواروں کی مدد کے لیے بیرونی ملکوں کا پیسہ استعمال کر رہے ہیں ۔

سابق صدر بُش کے مشیر Carl Rove نے اتوار کے روز فاکس نیوز پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’

ان کے پاس اس بے بنیاد جھوٹ کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ یہ ایک پریشان کُن رجحان ہے کہ صدر امریکہ کسی قسم کے حقائق یا ثبوت کے بغیر اپنے سیاسی حریفوں کو بد نام کر رہےہیں۔‘‘

انتخابی مہم کے آخری ہفتوں میں، فنڈ جمع کرنے کے معاملے میں ڈیموکریٹس کے لیے ریپبلیکنز کا مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے، خاص طور سے اس لیے بھی کہ باہر کے گروپ ریپبلیکنز کے لیے کروڑوں ڈالر جمع کر رہے ہیں۔

واشنگٹن کی امریکن یونیورسٹی کے پروفیسر ایلن لچمین کہتے ہیں’’چندہ دینے والے مالدار لوگ اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر انتخابی مہم میں بہت بڑی رقم دے سکتے ہیں۔ اس طرح ریپبلیکنز کی چاندی ہو گئی ہے ۔ ان میں ٹی پارٹی کی وجہ سے عوامی سطح پر بھی جوش و خروش ہے جس کی ڈیموکریٹس میں کمی ہے اور ان کے پاس پیسے کی بھی ریل پیل ہے ۔‘‘

لیکن بعض دوسرے ماہرین کہتے ہیں کہ ڈیموکریٹس کی اصل پریشانی یہ نہیں ہے کہ ان کے پاس پیسے کی کمی ہے ۔ ان کی اصل پریشانی یہ ہے کہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، دو نومبر کو امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ریپبلیکنز کا پلڑہ بھاری رہے گا اور انہیں کافی نشستیں ملیں گی۔

XS
SM
MD
LG