رسائی کے لنکس

امریکی اقتصادی صورتحال وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہوسکتی ہے:تجزیہ نگار

  • جم میلون

چھ ہفتے سے بھی کم عرصے میں امریکی ووٹرز ایک نئی کانگریس کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ اس انتخاب کے نتائج سے اگلے دو برسوں میں صدر براک اوباما کی حکومت کرنے کی صلاحیت پر اہم اثرات مرتب ہوں گے۔ ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینٹ کی 37 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالےجائیں گے اور 37 ریاستوں میں گورنر کے عہدے کے لیے انتخاب ہوگا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس سال کے وسط مدتی انتخاب پر دو عوامل کا بہت زیادہ اثر پڑےگا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ عام لوگوں کے خیال میں ملک کی اقتصادی حالت خراب ہے اور اس تاثر سے صدر اوباما کو اور کانگریس میں ان کے ساتھی ڈیموکریٹس کو نقصان پہنچے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ ٹی پارٹی کی عوامی تحریک کی بدولت، قدامت پسندوں کے جوش و خروش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا فائدہ ریپبلیکن امید واروں کو ہوگا۔

جولیا میک لاؤڈ ٹی پارٹی کی حامی ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے واشنگٹن میں ٹی پارٹی کے ایک اجتماع میں شرکت کی تھی۔ انھوں نے کہا’’کانگریس جو کچھ کر رہی ہے اور اوباما جو کچھ کر رہے ہیں، ہمیں اس پر تشویش ہے۔ ہم حکومت کا زیادہ عمل دخل نہیں چاہتے۔ ہم نہیں چاہتے کہ حکومت اتنے زیادہ ٹیکس لگائے۔‘‘

Quinnipiac University کے پولسٹر پیٹر براؤن کہتے ہیں کہ قدامت پسندوں کی ناراضگی کی بڑی وجہ ملک کی خراب اقتصادی حالت ، خاص طور سے روزگار کے مواقع کی کمی ہے ۔ ’’سب سے بڑا مسئلہ ملک کی معیشت کی خراب حالت ہے اور بیشتر لوگوں کے لیے اس کا مطلب بے روزگاری ہے ۔ جب تک بےروزگاری میں نمایاں طور سے کمی نہیں آتی، لوگوں کی نظر میں اقتصادی حالت خراب رہے گی اور یہ صدر اوباما کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔‘‘

سارا پیلن (فائل فوٹو)

سارا پیلن (فائل فوٹو)

امریکن انٹرپرائز انسٹیٹیوٹ کے جان فورٹیئر کے مطابق ، ریپبلیکنز کو یہ امید بھی ہے کہ حکومت کے بڑھتے ہوئے سائز اوروفاقی بجٹ میں خسارے کے بارے میں تشویش کی وجہ سے بھی انہیں کچھ نشستیں مل جائیں گی۔وہ کہتے ہیں’’میرے خیال میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ حزب اختلاف ، یعنی ریپبلیکنز اور ٹی پارٹی کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے ۔ ان کے خیال میں معیشت کی حالت خراب ہے اور حکومت کا سائز بہت بڑا ہو گیا ہے ۔‘‘

قدامت پسندوں کی مہم کی قیادت ریاست الاسکا کی سابق گورنر سارا پیلن کر رہی ہیں۔ وہ ٹی پارٹی کے حامیوں میں بہت مقبول ہیں اور دو سال بعد، شاید وہ صدارتی امید وار ہوں۔حال ہی میں انھوں نے ریاست آئیوا میں ، جہاں سے ہر چار سال بعد پارٹی کاکس کی ووٹنگ سے صدارتی انتخاب کا عمل شروع ہوتا ہے، ریپبلیکنز کو خطاب کیا۔ انھوں نے کہا’’ہم اپنے ملک کو صحیح راستے پر ڈالنے کے لیے 2012 تک انتظار نہیں کر سکتے۔ ہمیں فوری طور پر ابتدا کرنی ہوگی اور اس کے لیے مضبوط لیڈروں کو چننا ہوگا جو بلا تکلف حالات کو بدلنے کو تیار ہوں۔‘‘

حالیہ مہینوں کے دوران صدر اوباما کی مقبولیت کی شرح مسلسل کم ہوتی رہی ہے لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایوانِ نمائندگان اور سینٹ میں ڈیموکریٹک اکثریت بر قرار رکھنے کی بہترین امید ملک بھر میں صدر اوباما کی انتخابی مہم سے ہی وابستہ ہے ۔ صدر نے کہا ہے’’اب بھی مقابلہ خوف اور امید، ماضی اور مستقبل کے درمیان ہے ۔ اب بھی پیچھے کی طرف جانے اور آگے بڑھنے کے درمیان مقابلہ ہے ۔ اس انتخاب میں اصل مقابلہ یہی ہے ۔نومبر میں آپ کو یہی فیصلہ کرنا ہوگا۔‘‘

سیاسی ماہرین متفق ہیں کہ نومبر میں ریپبلیکنز کوکچھ مزید نشستیں مل جائیں گی۔ پولسٹر پیٹر براؤن کہتے ہیں کہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کتنی نشستیں جیتیں گے ۔ ’’تاریخی اعتبار سے وسط مدتی انتخاب میں وائٹ ہاؤس ہمیشہ کچھ نشستیں کھو دیتا ہے ۔ اگر اس سال ڈیموکریٹس کچھ نشستیں نہ کھوتے تو یہ بڑی حیرت کی بات ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ اس سال کتنی نشستیں ان کے ہاتھ سے نکل جائیں گی۔بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سال ریپبلیکنز کے لیے بڑا مبارک ہو گا۔‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ انتخابات کے نتائج سے صدر اوباما کا حکومت کرنے کا انداز اور صدر کی حیثیت سے ان کی حکومت کرنے کی صلاحیت پر بہت زیادہ اثر پڑے گا۔ ’’نتیجہ چاہے کچھ ہی کیوں نہ ہو، ریپبلیکنز ایوان نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرلیں یا اس میں کچھ کمی رہ جائے، اگلے دو برس آج کل کے مقابلے میں بہت مختلف ہوں گے۔ یہ وہ وقت ہوگا جب یا تو کامیابیاں بہت معمولی ہوں گی یا دونوں پارٹیوں کے درمیان سخت مخالفت کی فضا قائم ہو جائے گی۔ اوباما کے قانون سازی کے ایجنڈے پر جو دوسری چیزیں درج ہیں، ان پر کام کے لیے وقت نہیں مل سکے گا۔‘‘

ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول بحال کرنے کے لیے ریپبلیکنز کو 39 نشستوں کی اور سینٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے دس نشستوں کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG