رسائی کے لنکس

امریکی صدارتی انتخابات اور یورپی یونین

  • الپیسن

اقتصادی مسائل سے لے کر ایران اور افغانستان کی جنگ تک، یورپ کا مستقبل بڑی حد تک امریکہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

یورپ کے لوگ امریکہ کی انتخابی مہم کے آخری مرحلوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں یہ فکر ہے کہ اس انتخاب کے نتیجے سے عالمی مسائل پر کیا اثر پڑے گا۔

یورپ کے لوگ امریکہ کے انتخاب میں ووٹ تو نہیں ڈال سکتے، لیکن ہر جگہ کے لوگوں کی طرح، اس انتخاب کے نتیجے سے ان کا مفاد بھی وابستہ ہے۔ اقتصادی مسائل سے لے کر ایران اور افغانستان کی جنگ تک، یورپ کا مستقبل بڑی حد تک امریکہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
اور ایسا لگتا ہے کہ جن دو افراد کے درمیان اگلے چار سال کے لیے امریکہ کی قیادت کا مقابلہ ہو رہا ہے، یورپ کے بارے میں ان کے خیالات بڑے مختلف ہیں۔ مٹ رومنی نے کہا ہے کہ’’میرے خیال میں صدر امریکہ کو یورپی طرز کی فلاحی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتےہیں۔ اس قسم کا ماڈل دنیا میں کہیں بھی کامیاب نہیں ہوا ہے۔‘‘

صدر اوباما نے کہا ہے کہ’’ہر قدم سے اس حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یورپ ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بجائے مزید یکجہتی کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ کہ تمام مسائل حل کیے جا سکتےہیں۔ ان تمام چیزوں سے یورپ کے ملکوں کی معیشتوں کی بنیادی توانائی کی نشاندہی ہوتی ہے۔‘‘

لندن کے چاتھم ہاؤس کی سینیئر فیلو زینیا ڈارمینڈی کہتی ہیں کہ دونوں امیدواروں کے لہجے کے اس فرق کو بحرِ اوقیانوس کے اس طرف نوٹ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’رومنی ایک مضبوط، دوسروں سے ممتاز اور قائدانہ کردار والے امریکہ کی بات کرتےہیں ۔ وہ دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ تمام وہ چیزیں ہیں جن سے یورپ کے لوگ کسی حد تک نروس ہوجاتے ہیں۔ اس کے برخلاف، میں اوباما کو یورپی لیڈر کہتا ہوں۔ وہ اتفاقِ رائے کے قائل ہیں۔ وہ کئی جہتوں والے اداروں کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں، وہ اشتراکِ عمل کے قائل ہیں۔ یہ چیزیں یورپ کے انداز فکر کے عین مطابق ہیں۔‘‘

اور یہی وجہ ہے کہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، یورپ کے 75 فیصد لوگ صدر اوباما کو گورنر رومنی پر ترجیح دیتے ہیں۔ اور ڈارمینڈی کہتی ہیں کہ ان خیالات کا عملی نتیجہ بھی نکلے گا۔ ان کے مطابق ’’یہ بات واقعی اہم ہے ۔ اس طرح یورپی لیڈروں کو اوباما کے ساتھ کام کرنے کی جو آزادی ملے گی وہ رومنی کے ساتھ نہیں مل سکے گی۔‘‘

وہ کہتی ہیں کہ یہ بات صحیح ہے اگرچہ ان کی خارجہ پالیسیاں بہت زیادہ مختلف نہیں ہوں گی۔

اور کنگز کالج کے جیمز بوائز کہتے ہیں کہ یہ بات ایران، روس اور چین سمیت ان مسائل کے بارے میں بھی صحیح ہے جن کا ذکر کرتے ہوئے رومنی نے سخت زبان استعمال کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ کہنا آسان ہے کہ میرا کام کرنے کا انداز مختلف ہو گا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انتخابی مہم کے دوران جو باتیں کہی جاتی ہیں، جب لوگ تبدیلی پر زور دیتے ہیں ، اور جب ایک بار وہ عہدہ سنبھال لیتے ہیں اور انہیں تسلسل قائم رکھنا ہوتا ہے، ان دونوں حالتوں میں بہت فرق ہوتا ہے۔ انتخاب سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کی سمت میں کچھ وقت کے لیے ٹھہراؤ آ گیا ہے۔ میرے خیال میں یورپ میں بہت سے لوگ یہ جاننے کے لیے بے چین ہیں کہ نئی انتظامیہ کے تحت نئے سال میں کیا ہوتا ہے، اس انتظامیہ کے سربراہ رومنی ہوں یا اوباما۔‘‘

امریکی انتخاب کا فیصلہ منگل کی رات ہو جائے گا جب یورپ کے بیشتر لوگ سو رہے ہوں گے۔ بدھ کے روز ان کا سامنا یا تو ایک جانی پہچانی اور بڑی حد تک مانوس شخصیت سے ہوگا، یا ایک نئی اور بڑی حد تک انجانی شخصیت سے جس کے بیانات سے کسی حد تک تشویش پیدا ہوئی ہے۔
XS
SM
MD
LG