رسائی کے لنکس

لیبیا میں امریکی سفارتخانہ بند، تعزیرات عائدکرنے کی کوششیں تیز


ترجمان وائٹ ہاؤس

ترجمان وائٹ ہاؤس

امریکہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی طرف سےجمعے کو کیے گئے فیصلے کی حمایت کرتا ہے جس میں کونسل سے لیبیا کی رکنیت معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے: وائٹ ہاؤس ترجمان

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے لیبیا میں اپنا سفارتخانہ بند کردیا ہےاور حکومت مخالف احتجاجیوں پر تشدد کے اقدامات کو بند کرانے کی خاطرلیبیا پر تعزیرات لاگو کرنے کےلیے کوشاں ہے۔

وائٹ ہاؤس ترجمان جے کارنی نے جمعے کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکہ نے طرابلس میں اپنےسفارتخانے کا تمام کام معطل کر دیا ہے اور عارضی طور پر ایمبسی کے تمام ملازمین کو واپس بلایا جا رہا ہے۔

کارنی نے کہا کہ صدر براک اوباما نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ لیبیا کے خلاف یکطرفہ تعزیرات کے معاملے کو آگے بڑھایا جائےاور یہ کہ اِس حوالے سے مربوط اقدامات کےلیے بین الاقوامی ساجھے داروں سے مشورہ کیا جارہا ہے۔
کارنی نے اِس بات کی وضاحت نہیں کی کہ امریکہ کونسے اقدام کرنا چاہتا ہے۔ تاہم ، اُن کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ اُن کے بقول، ’لیبیا پر دباؤ ڈالا جاسکے کہ وہ اپنے ہی لوگوں کی ہلاکت بند کرے۔ ‘

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل کی طرف سےجمعے کو کیے گئے فیصلے کی حمایت کرتا ہے جس میں کونسل سے لیبیا کی رکنیت معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن پیر کو جنیوا کا سفر کرنے والی ہیں جہاں وہ انسانی حقوق کونسل کےمذاکرات میں شرکت کریں گی جس میں لیبیا کے بارے میں مزید اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

کارنی نے کہا کہ پیر کو صدر اوباما اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون سے واشنگٹن میں ملاقات کرنے والے ہیں جس میں اِس بات پر گفتگو ہوگی کہ لیبیا میں تشددکو رکوانے کے لیے کیا قانونی اور سفارتی اقدامات اُٹھائے جائیں۔

XS
SM
MD
LG