رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کے ایلچی اور شامی حزب مخالف کے درمیان 'مثبت' بات چیت


اسٹافن دی مستورا

اسٹافن دی مستورا

ڈی مستورا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ "پرامید اور پرعزم " ہیں کہ حزب مخالف اس امن عمل میں شرکت کرے گی جو جمعہ کو شروع ہوا ۔

شام میں قیام امن کے لیے ہونے والے بلواسطہ مذاکرات کا بائیکاٹ کرنے کے بعد شام کی مرکزی حزب مخالف کے نمائندوں نے اتوار کو اقوام متحدہ کے شام کے لیے ایلچی اسٹافن ڈی مستورا سے جنیوا میں ملاقات کی، جس کے بعد دونوں طرف سے کہا گیا کہ ان معلامات کو حل کرنے میں پیش رفت ہوئی جن کی بنا پر حزب مخالف نے ان مذاکرات میں شامل نہ ہونے کی دھمکی دی تھی۔

ڈی مستورا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ "پر امید اور پرعزم " ہیں کہ حزب مخالف اس امن عمل میں شرکت کرے گی جو جمعہ کو شروع ہوا۔ یہ مذکرات طے شدہ وقت سے پانچ دن بعد شروع ہوئے اور حزب مخالف نے ان مذاکرات کے پہلے دن کا بائیکاٹ کیا۔

شامی حزب مخالف کے ایک ترجمان نے کہا کہ اتوار کو ہونے والی بات چیت جس کا تعلق انسانی مسائل سے تھا "مثبت اور حوصلہ افزا" تھی۔

حزب مخالف کی طرف سے عام شہری علاقوں میں فضائی کارروائیوں اور ان کے محاصرے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جو باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ کا سبب ہیں۔

قبل ازیں شامی حزب مخالف کی طرف سے کہا گیا کہ وہ اقوام متحدہ کے عہدیداروں سے ملاقات کے لیے جنیوا میں موجود ہے لیکن بشارالاسد کی حکومت کی ساتھ کسی قسم کے مذاکرات میں شریک نہیں ہو گی چاہیے یہ بلواسطہ ہی کیوں نا ہوں۔

اتوار دیر گئے حزب مخالف کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان کا وفد اقوام متحدہ کے نمائندے کے ساتھ پیر کو ایک اور ملاقات کرے گا۔

اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی اس بات چیت کا مقصد بالآخر براہ راست بات چیت کی بنیاد فرائم کرنا ہے۔

پیر کو متوقع دور میں اسد حکومت کے عہدیداروں اور حزب مخالف کے نمائندوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کا کوئی پروگرام طے نہیں ہے۔ ان کا مقصد اقوام متحدہ کے نمائندے کی طرف سے ہر فریق سے الگ الگ مشاورت کر کے ان کا موقف اور تجاویز ایک دوسرے تک پہنچانا ہے۔

دوسری طرف واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شامی حکومت اور حزب مخالف پر پانچ سال سے جاری بحران کے خاتمے کی لیے کوشش کرنے پر زور دیا ہے جس کی وجہ سے تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک جبکہ لاکھوں بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے۔

شامی حزب مخالف کی اعلیٰ سطحی مذاکراتی کمیٹی کے نمائندے ہفتے کو جنیوا پہنچے اور انہوں نے اس موقع پر کہا کہ وہ صرف اقوام متحدہ کے عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کریں گے لیکن مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG