رسائی کے لنکس

مغرب اسلام کے خلاف جنگ نہیں کر رہا: امریکی نمائندہ خصوصی


شارق ظفر (فائل فوٹو)

شارق ظفر (فائل فوٹو)

نمائندہ خصوصی کے بقول مذہب کو تشدد کی ترویج کے استعمال کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسی آوازوں کو اجاگر کیا جائے جو امن اور برداشت کا پیغام دیتی ہیں۔

مسلم برادری کے لیے امریکہ کے صدر براک اوباما کے نمائندہ خصوصی شارق ظفر کہتے ہیں کہ ایسے لوگ جو مغرب کو اسلام کا مخالف قرار دے کر تشدد کی توجیہہ ڈھونڈتے ہیں، ان کے پروپیگنڈے کو ختم کرنے کے لیے کوششوں کو دگنا کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک نمائندہ گروپ سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ مذہب کو عسکریت کے لیے استعمال کرنا بہت ہی خطرناک ہے کیونکہ یہ مذہب کے خوبصورت تصورات اور بنیادی روح کو دور لے جاتی ہے۔

پاکستانی نژاد شارق ظفر کو جولائی 2014ء میں محکمہ خارجہ میں خصوصی نمائندے کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔

انھوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ مذہبی شخصیات معاشرے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

نمائندہ خصوصی کے بقول مذہب کو تشدد کی ترویج کے استعمال کرنے والوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسی آوازوں کو اجاگر کیا جائے جو امن اور برداشت کا پیغام دیتی ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں قدم جمانے والے شدت پسند گروپ داعش کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ القاعدہ سے مختلف طور کا خطرہ ہے۔

شارق ظفر کا کہنا تھا کہ القاعدہ اور داعش دونوں ہی یہ جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ مغرب اور اس کے اتحادیوں نے اسلام کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر اسلام کے خلاف کوئی جنگ ہے تو وہ القاعدہ اور داعش نے شروع کر رکھی ہے۔

XS
SM
MD
LG