رسائی کے لنکس

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں گزشتہ ہفتے بےروزگاری الاؤنس کے لیے اپنا اندراج کرانے والوں کی تعداد گزشتہ چار برسوں کی کم ترین سطح پر رہی۔

امریکی محکمہ محنت کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے تین لاکھ 51 ہزار بےروزگاروں نے زرِ تلافی کے لیے سرکاری دفاتر میں اپنا اندراج کرایا۔

محکمے کے مطابق بےروزگاری الاؤنس کے لیے رابطہ کرنے والوں کی تعداد میں ایک ہفتہ قبل کے مقابلے میں 14 ہزار کی کمی واقع ہوئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں روزگار کی صورتِ حال میں بہتری آرہی ہے۔

ایک ماہ قبل بھی اتنے ہی افراد نے بےروزگاری الاؤنس کے لیے اپنا اندراج کرایا تھا جو مارچ 2008ء کے بعد ریکارڈ کی گئی کم ترین تعداد تھی۔

امریکی حکومت کے مطابق ملک میں اب بھی لگ بھگ ایک کروڑ 30 لاکھ افراد بے روزگار ہیں لیکن معیشت کی صورتِ حال میں بہتری آنے کے باعث کاروباری اداروں کی جانب سے ملازمین کی برطرفیوں میں کمی آئی ہے۔

گزشتہ چھ ماہ کے دوران میں امریکہ میں 12 لاکھ افراد کو ملازمتیں میسر آئی ہیں جو 2006ء کے بعد کسی بھی ششماہی میں برسرِ روزگار ہونے والے افراد کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

اس کے مقابلے میں یورپی ممالک میں 2011ء کی آخری ششماہی کےد وران میں روزگار کی صورتِ حال بہتر نہیں رہی جس کی بنیادی وجہ براعظم کے بڑھتے ہوئے قرضے کے بحران کے پیشِ نظر کئی ممالک کی جانب سے اٹھائے جانے والے بچت اقدامات ہیں۔

27 رکنی یورپی یونین کا کہنا ہے کہ جنوبی یورپ میں بےروزگاری کی شرح خطرناک سطح تک پہنچ رہی ہے۔

یورپی ممالک کی تنظیم کا کہنا ہے کہ نوکری کے قابل اسپین کی ایک چوتھائی آبادی بےروزگار ہے جب کہ قرضوں کے بوجھ تلے دبے یونان اور پرتگال کی معیشتیں بھی مشکل صورتِ حال کا سامنا کر رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG