رسائی کے لنکس

ونزویلا کے تین سفارت کاروں کو امریکہ سے نکل جانے کا حکم


ونزویلا (فائل)

ونزویلا (فائل)

ونزویلا امریکہ پر داخلی معاملات میں مداخلت کا الزام لگاتا ہے، جب کہ امریکہ نے مسٹر مدورو اور اُن کے پیش رو، آنجہانی ہیوگو شاویز کی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے حکومت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے ایران، روس اور کیوبا جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں

امریکہ نے وینزویلا کے تین سفارت کاروں کو ملک بدر کردیا ہے، جس سے ایک ہفتہ قبل ونزویلا نے تین امریکی سفارت کاروں کو ملک سے نکل جانے کے لیے کہا تھا، اس الزام پر کہ، بقول اُن کے، وہ احتجاج کرنے والے طالب علموں سے سازباز کر رہے تھے۔

امریکی محکمہٴخارجہ نے منگل کے روز کہا کہ اِن سفارت کاروں کو امریکہ چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے دیے گئے ہیں۔

سنہ 2010کے بعد سے ونزویلا اور امریکہ کے درمیان سفیروں کا تبادلہ نہیں ہوا، حالانکہ دونوں کے سفارت خانے اپنی جگہ موجود ہیں۔

حالیہ تناؤ کے باوجود، متوقع طور پر ونزویلا امریکہ کے لیے اپنے نئے سفیر کو نامزد کرنے والا ہے۔

ونزویلا کے صدر، نکولس مدورو نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ کے ساتھ مکالمے کے عمل میں بہتری لانے کے لیے وہ سفیر کا چناؤ کرنے والے ہیں، کیونکہ امریکہ کے خیال میں ونزویلا کے لوگ ’ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔‘

ونزویلا میں تین ہفتے سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے باعث کم از کم 14 افراد ہلاک اور تقریباً 150 زخمی ہوئے ہیں۔ گذشتہ اپریل میں، جب سے مسٹر مدورو نے اقتدار سنبھالا ہے، اُن کے لیے احتجاجی مظاہرے ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

ونزویلا امریکہ پر اُس کے داخلی معاملات میں مداخلت کا الزام لگاتا ہے، جب کہ امریکہ نے مسٹر مدورو اور اُن کے پیش رو، آنجہانی ہیوگو شاویز کی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے حکومت کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے ایران، روس اور کیوبا جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں۔

مدورو مخالف مظاہرین کا کہنا ہے کہ صدر کے اشتراکی سوچ پر مبنی پالیسیوں کے باعث بنیادی اشیاٴ کی قلت واقع ہوگئی ہے، جب کہ افراط زر 50 فی صد سے بھی بڑھ چکا ہے، حالانکہ ملک کے پاس تیل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔

دریں اثنا، مسٹر مدورو نے اپنے مخالفین پر امریکہ کے مدد سے تختہ الٹنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے۔
XS
SM
MD
LG