رسائی کے لنکس

امریکی ماہرین کی زرعی شعبے سے وابستہ پاکستانی حکام کی تربیت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے سے جاری ایک بیان کے مطابق یہ تربیت زرعی اجناس کی برآمد بڑھانے کے لیے حکومت پاکستان کی کوششوں میں بین الاقوامی معاونت کا حصہ تھی۔

زراعت پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا شعبہ ہے جس کا خام ملکی پیداوار میں حصہ 21 فیصد سے زائد بنتا ہے جب کہ ملک میں زراعت سب سے زیادہ روزگار مہیا کرنے والا شعبہ ہے، جس سے مجموعی افرادی قوت کا 46 فیصد حصہ منسلک ہے اور دیہی علاقوں کی 62 فیصد کے قریب آبادی کے لیے زراعت روزمرہ کی زندگی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

امریکی محکمہ زراعت پاکستان میں زرعی پیداوار میں اضافے، معاشی اہدف کے حصول اور غذائی تحفظ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستانی سائنسدانوں اور کسانوں کی معاونت کرتا آیا ہے۔

اس سلسلے میں امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) سے وابستہ دو تجربہ کار افراد نے زرعی پودوں کے تحفظ کے پاکستانی محکمے اور دیگر متعلقہ حکام کے لیے پودوں کو کیڑا لگنے کے خطرات کا تجزیہ، ان خطرات پر قابو پانے اور رابطوں کی اہمیت سے متعلق تربیت کا اہتمام کیا۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے سے جاری ایک بیان کے مطابق یہ تربیت زرعی اجناس کی برآمد بڑھانے کے لیے حکومت پاکستان کی کوششوں میں بین الاقوامی معاونت کا حصہ تھی۔

تربیت کے مقاصد میں پودوں کی صحت کے نظام اور زرعی سائنس کے شعبے کے حکام کے علم میں اضافہ کرنا اور امریکی محکمہ زراعت اور پودوں کی صحت کے لیے کام کرنے والے پاکستانی حکام کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا تھا۔

امریکی محکمہ زراعت کی ’ایکسپورٹ کوآرڈینیٹر‘ لوٹی ایرکسن نے تربیت کے دوران کہا کہ حکومت پاکستان نے برآمدی زرعی مصنوعات کی قدر اور معیار میں اضافے کے لیے حالیہ برسوں کے دوران ناقابل یقین پیش رفت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پودوں کے تحفظ کے کام پر مامور عملے اور ان کی مہارتوں کو وسعت دینے کے لیے پودوں کے تحفظ کے پاکستانی محکمہ کے اقدامات میں معاونت پر امریکی محکمہ زراعت کو از حد خوشی ہے۔

بیان کے مطابق امریکی محکمہ زراعت کے رسک اینالسٹ والٹر گُٹیریز نے پودوں کو کیڑا لگنے کے خطرات کے تجزیہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحت مند پودوں سے متعلق قواعد و ضوابط کا مقصد ملک کی مجموعی زراعت اور زرعی شعبے کے کاروباری شراکت داروں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

محفوظ تجارت کے ہدف کے حصول کے لیے یہ ضروری ہے کہ درآمدی و برآمدی مصنوعات لازمی طور پر کیڑوں اور بیماریوں سے پاک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پودوں کے تحفظ کے محکمہ کو پودوں کو ممکنہ کیڑوں اور بیماریوں سے، جو زرعی مصنوعات میں ہو سکتی ہیں، لاحق خطرات کا ٹھوس سائنسی، بااعتبار اور قابل دفاع تجزیہ کے ذریعے تعین کرنا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG