رسائی کے لنکس

آٹھ سے 13 اپریل تک جاری رہنے والے میلے میں پیش کی جانے والی فلمیں، عام فلموں سے بالکل مختلف تھیں، جن میں گلیمر اور خوش کن نظاروں کی آڑ میں زندگی کی تلخ حقیقتوں کو چھپا دیا جاتا ہے

بالی وڈ کی فلمیں اکثر بھارتی ثقافت، خوبصورت آرٹسٹوں اور دلکش نظاروں سے سجی ہوتی ہیں اور ان کی کہانیاں محبت کے گرد گھومتی ہیں۔ لیکن، امریکا میں فلم میکرز کے ایک گروپ نے ہندی سینما کا ایک مختلف روپ دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔

برطانوی خبرایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق لاس اینجلس میں8 سے13اپریل تک جاری رہنے والے ’انڈین فلم فیسٹیول‘ میں ان فلموں کی نمائش ہوئی جو کم بجٹ میں ہالی وڈ کی فلمی دنیا سے باہر بنائی گئیں۔ لیکن، ان کی کہانیاں بھارتی ماحول اور سماج سے جڑی ہوئی ہیں۔چھ روزہ فلم فیسٹیول میں 33 فیچر فلمز، دستاویزی فلمیں اور شارٹ فلمز دکھائی گئیں۔

فیسٹیول کا آغاز جیفری ڈی براوٴن کی فلم ’سولڈ‘ سے ہوا۔ ’سولڈ‘ کی کہانی ایسی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جسے 13سال کی عمر میں بیچ دیا جاتا ہے۔ جیفری کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس موضوع اس لئے چنا تاکہ دنیا بھر میں بچوں کے استحصال اور غلامی کے خلاف شعور بیدار کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے مطابق سال 2013میں دنیا بھر میں 115ملین افراد غلامی، جسم فروشی یا بیگاری کا شکار ہوئے جن میں بچے بھی شامل تھے۔

براوٴن نے بتایا کہ ’سولڈ‘ میں بھارت میں بچوں کے خلاف جرائم اور استحصال کو دکھانے کا مقصد لوگوں کو معاشرے کے تاریک پہلووٴں سے آگاہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’سلم ڈاگ ملینیر‘ کی کامیابی سے بھارتی سینما میں ایک نئی لہر نے جنم لیا ہے اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔

انڈین فلم فیسٹیول لاس اینجلس کی ڈائریکٹر جیسمین جے سنگھانی کا کہنا ہے کہ فیسٹیول میں پیش کی جانے والی فلمیں ان فلموں سے بالکل مختلف تھیں جن میں گلیمر اور خوش کن نظاروں کی آڑ میں زندگی کی تلخ حقیقتوں کو چھپادیا جاتا ہے۔

فیسٹیول میں ممبئی فلم انڈسٹری کے سو سال مکمل ہونے پر بنائی جانے والی فلم ’بومبے ٹاکیز‘ بھی نمائش کے لئے پیش کی گئی۔
XS
SM
MD
LG