رسائی کے لنکس

دولتِ اسلامیہ کی مدد کا الزام، امریکی خاتون کا اعترافِ جرم


فائل

فائل

انیس سالہ سالہ شینن کونلی نے شام میں سرگرم اپنے منگیتر سمیت دیگر جنگجووں کی مدد کی کوششیں کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم 'دولتِ اسلامیہ' سے منسلک ایک جنگجو کی امریکی منگیتر نے امریکہ کی ایک عدالت کے روبرو خود پر عائد کیے جانے والے دہشت گردی کے الزامات تسلیم کرلیے ہیں۔

حکام کے مطابق 19 سالہ شینن کونلی ریاست کولاراڈو کے علاقے ارواڈا کی رہائشی ہے اور اس نے عدالت کے روبرو شام میں سرگرم اپنے منگیتر سمیت دیگر جنگجووں کی مدد کی کوششیں کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق شینن نو مسلمہ ہے اور اپنے منگیتر سے اس کا تعارف انٹرنیٹ کے ذریعے ہوا تھا۔

اپنے منگیتر کی تحریک پر شینن نے امریکہ میں واقع ایک مرکز سے فوجی طرز کی تربیت حاصل کی تھی جس میں آتشی اسلحے کا استعمال اور نشانہ بازی کی تربیت بھی شامل تھی۔

فردِ جرم میں استغاثہ نے شینن پر نرسنگ کی تربیت حاصل کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا جس کا مقصد، حکام کے بقول، دولتِ اسلامیہ کے جنگجووں کی مدد کرنا تھا۔

حکام کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' نے شینن کو رواں سال اپریل میں ایک امریکی ہوائی اڈے سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ ترکی جانے والی پرواز میں سوار ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ 'ایف بی آئی' کے اہلکاروں نے گرفتاری سے قبل بھی ملزمہ کی جانب سے بیرونِ ملک سفر کی کی کئی کوششیں ناکام بنادی تھیں۔

شینن کے اعترافِ جرم کے بعد مقدمے کی سماعت کرنے والی امریکی عدالت جنوری میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔ امکان ہے کہ ملزمہ کو پانچ سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG