رسائی کے لنکس

امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں ایک سابق طالب علم نےآکلینڈ کی ایک درسگاہ میں فائرنگ کرکے سات افراد کو ہلاک اور تین کو زخمی کردیا ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ ایک کوریائی- امریکی کرسچین کالج میں پیرکو پیش آیا اور43 سالہ مشتبہ حملہ آورنے، جو ایک کوریائی باشندہ ہے، کچھ ہی دیر بعد اپنے آپ کوپولیس کے حوالے کردیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مشتبہ قاتل نے ’اویکوس یونیورسٹی‘ کے استقبالیہ ڈسک پر موجود ایک شخص کو گولی مارنے کے بعد کلاس رومز میں داخل ہو کر وہاں موجود افراد پر گولیوں کی بارش شروع کردی۔

ایک طالبہ ڈیبوراہ لی نے بتایا کہ فائرنگ کی آواز سنتے ہی وہ جان بچا کر وہاں سے بھاگی۔

’’شروع میں جب میں نے فائرنگ کی آواز سنی تو میں سمجھی کے آتش بازی کی جارہی ہے یا پھر کوئی مذاق کررہا تھا۔ لیکن اس کے بعد ایک عورت کی چیخ وپکارسن کر میرے اُستاد صورت حال کے بارے میں جاننے کے لیے کلاس سے باہر نکلے اُنھیں ایک خاتون نے بتایا کہ بھاگو کسی کے پاس پستول ہے، اور پھر ہم سب بھی کلاس روم سے نکل کر بھاگے۔‘‘

آکلینڈ کی پولیس کے سربراہ ہاورڈ جورڈن نے فائرنگ کے اس واقعہ کو’’خوفناک اور ناقابل فہم‘‘ قراردیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ حملے کے وقت جائے وقوعہ پر بھگ دڑ مچی ہوئی تھی اورجان بچا کر بھاگنے والےخوفزدہ طالب علموں نے عمارت کے اندربنچوں کے پیچھے چھپ کر کمروں کو اندر سے بند کررکھا تھا۔

اویکوس یونیورسٹی کے بانی پادری، جونگ کِم، نے ’آکلینڈ ٹریبیون‘ اخبار کو بتایا ہے کہ فائرنگ کرنا والا شخص نرسنگ کا سابق طالب علم ہے۔ لیکن اُنھوں نےکہا کہ اُنھیں اس بات کا علم نہیں کہ آیا مشتبہ شخص درسگاہ سے نکالا گیا تھا یا پھر فیل ہوگیا تھا۔

حملہ آور کے محرکات کے بارے میں بھی کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG