رسائی کے لنکس

پہلی صومالی امریکی خاتون کے طور پر اِلھان کا امریکہ میں قانون ساز کے مرتبے تک پہنچ جانا اب مسلمانوں اور خاص طور پر دنیا بھر کی مسلم خواتین کے لئے یقیناً مشعلِ راہ ہے۔

34 سالہ اِلھان عمر کے لیے کینیا میں موجود صومالی پناہ گزینوں کے کیمپ سے امریکی ریاست مینیسوٹا کے ایوانِ نمائندگان تک پہنچنے کا سفر بڑی حد تک غیر متوقع رہا ہے۔

تاہم پہلی صومالی امریکی خاتون کے طور پر اِلھان کا امریکہ میں قانون ساز کے مرتبے تک پہنچ جانا اب مسلمانوں اور خاص طور پر دنیا بھر کی مسلم خواتین کے لیے یقیناً مشعلِ راہ ہے۔

جب اِلھان عمر نے اپنے کام پر پہلا دن گزارا تو وائس آف امریکہ کے کین فیرابو مینیسوٹا کے ریاستی دارالحکومت سینٹ پال میں موجود تھے۔

اُن کے کام کا آغاز دو سادہ سے الفاظ کے ساتھ ہوا “I do”۔

اِلھان عمر نے جب مینیسوٹا کے ایوانِ نمائندگان میں اپنی نشست سنبھالی تو اُنہوں نے وہ کارنامہ انجام دیا جسے انتخابات کے ایک ایسے برس میں بہت کم لوگ ممکن سمجھتے تھے جس میں مسلمان امریکی امیگریشن اور دہشت گردی کے حوالے سے سیاسی مباحثوں کا موضوع بنے رہے۔ مینیسوٹا کی مسلم امریکن سوسائٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسد زمان کا کہنا ہے کہ

’’مسلمان سوسائٹی کو فتح کی ضرورت ہے‘‘۔

اسد زمان اِلھان عمر کے اُن درجنوں حامیوں میں سے ایک تھے جو اِلھان کی حلف برداری کی تقریب میں موجود تھے۔

اُنہوں نے رسمی تقریب کے دوران مینیسوٹا کے ایوانِ نمائندگان کے فلور پر قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر اپنے منصب کا حلف اُٹھایا۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

’’میں حلف اُٹھاتی ہوں۔ مبارک ہو۔ ایوانِ نمائندگان میں خوش آمدید۔‘‘

مینیسوٹا کی مسلم امریکن سوسائٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسد زمان کے مطابق ’’اس سے امریکہ کی اقدار کااظہار ہوتا ہے جس میں حجاب پہننے والی صومالی امریکی خاتون کو اپنا نمائندہ منتخب کیا جا رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ امریکہ کے حوالے سے یہ بہت ہی شاندار بات ہے۔‘‘

2016ء میں صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران جو منفی رجحان دیکھا گیا، وہ اِلھان عمر کی کامیابی سے ثانوی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اِلھان قومی سطح کے مباحثوں میں مسلمان امریکیوں کے حوالے سے اپنا ایک مثبت کردار دیکھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ

’’یہ ایک جوابی بیانیہ کا موقع فراہم کرتا ہے جو بتاتا ہے کہ سب کچھ برا نہیں ہے۔ بلکہ بہت کچھ اچھا بھی ہے۔ اگر تمام تر مخالف صورت حال کے باوجود میری طرح کا کوئی شخص کامیاب ہو سکتا ہے تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اچھے اور برے کا ایک توازن موجود ہے۔ ہم سب کو اکٹھے ہو کر اچھائیوں کےحق میں آواز بلند کرنے کے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔‘‘

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اگرچہ اِلھان عمر مینیسوٹا کی ریاستی حکومت میں ایک قانون ساز کے طور پر کام کرنے والی پہلی صومالی امریکن ہیں، وہ اپنے انتخابی حلقے منیاپولس میں صومالی امریکی ووٹروں کی اکثریتکی حمایت حاصل نہیں کر پائیں اور اُنہیں اپنی نشست جیتنے کے لیے اپنی کمیونٹی کے باہر سے حمایت حاصل کرنا پڑی۔ مسلم سوسائٹی آف مینیسوٹا کے اسد زمان کا کہنا ہے کہ

’’سیاست ایک ایسا فن ہے جس میں لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کرنا پڑتا ہے اور اِلھان عمر نے ایسی ہی سیاست کو اپنایا ہے۔ اس کے نتیجے میں اِلھان نے خود کو ایک ایسے اُمیدوار کے طور پر پیش کیا ہے جو آزاد خیال سفید فام ووٹروں کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوئیں اور اُنہوں نے قائل کر لیا کہ وہ بہترین اُمیدوار ہیں۔‘‘

وہ مینیسوٹا سے آگے بڑھ کر بھی لوگوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ سب کچھ ممکن ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ قرن افریقہ کے حالیہ دورے کے دوران اُن کا یہ خیال ابھر کر سامنے آیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ

’’جب میں نے اُن نوجوان لوگوں کے بارے میں سنا جو کینیا اور صومالیہ میں اس لئے انتخاب لڑ رہے تھے کہ وہ میری انتخابی مہم سے متاثر ہوئے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس قسم کے پیغام صورت حال کی درست سمت متعین کرتے ہیں اور جو کچھ بھی ہم یہاں کر سکتے ہیں، یہ اُس کے درجے اور شدت کو بڑھا دیتے ہیں۔‘‘

اِلھان عمر مینیسوٹا کے ایوانِ نمائندگان کی رکن کی حیثیت سے جو خدمات انجام دیں گی، اُن کے درجے کا تعین ابھی ہونا ہے۔ لیکن اسد زمان کا کہنا ہے کہ اِلھان عمر کی شہرت اب مینیسوٹا کے ووٹروں سے آگے بڑھ چکی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ

’’یہ ایک اہم بات ہے۔ میرے خیال میں ہم یہاں جو کچھ بھی کر رہے ہیں پوری دنیا اسے دیکھ رہی ہے۔‘‘

اسی وجہ سے اِلھان عمر کہتی ہیں کہ اب جبکہ وہ مستقبل کے ایک تاریخی سفر پر روانہ ہو رہی ہیں، لوگوں کی اُن اُمیدوں اور توقعات پر پورا اترنا اُن کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے جو اُنہوں نے اُن سے وابستہ کر رکھی ہیں۔

XS
SM
MD
LG