رسائی کے لنکس

کیا جھنڈا جلانے سے امریکی شہریت ختم ہو سکتی ہے؟


فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکی قانون کے تحت ملک کے خلاف سازش میں شریک ہونے، یا طاقت کے ذریعے تختہ الٹنے کی کوشش کرنے یا امریکہ کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر شہریت منسوخ ہو سکتی ہے۔

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منگل کے روز اس ٹویٹ کے بعد کہ امریکہ جھنڈا چلانے والوں کی شہریت منسوخ کر دینی چاہیے یا انہیں جیل بھیج دینا چاہیے، ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔

اخبار ٹائم نے اپنے تازہ شمارے میں یہ جائزہ لیا ہے کہ امریکی قانون کے مطابق کن حالات و واقعات میں امریکی شہریت منسوخ ہو سکتی ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ اگرچہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت جھنڈا جلانے کے عمل کو تحفظ حاصل ہے کیونکہ اس ترمیم میں اظہار کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، لیکن ایک نو منتخب صدر کا بیان یہ ظاہر کرتا وہ ایسے شخص سے اس کی شہریت کا حق واپس لینے کے لیے تیار ہیں، جب کہ بعض حالات میں امریکی جھنڈا جلانے کا عمل شہریت کی منسوخی کے تقاضے پر پورا نہیں اترتا۔

امریکی قانون کے تحت کسی شخص کی امریکی شہریت صرف اس صورت میں منسوخ ہو سکتی ہے اگر وہ ملک کے خلاف سازش میں شریک ہو، یا طاقت کے ذریعے تختہ الٹنے کی کوشش کرے یا امریکہ کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ امریکی قانون کے تحت جھنڈا جلانا کوئی باغیانہ عمل نہیں ہے۔

کوئی شخص اس صورت میں امریکی شہریت سے محروم ہو سکتا ہے اگر وہ رضاکارانہ طور پر شہریت سے دست بردار ہونے کا اعلان کرے، کسی بیرونی ملک یا اس سے منسلک سیاسی ڈویژن کی وفاداری کا حلف اٹھائے، کسی دوسرے ملک کی فوج میں خدمات انجام دے، خاص طور پر اس ملک کی فوج میں جو امریکہ کے خلاف جارحیت میں مصروف ہو۔

ایسے افراد جو امریکہ سے باہر پیدا ہوئے ہوں اور انہوں نے اس ملک کی شہریت حاصل کی ہو، اگر وہ شہریت حاصل کرنے کے پانچ سال کے اندر اندر بعض تنظیموں یا گروپ میں شامل ہوجائیں، مثلاً کمیونسٹ پارٹی، یا دهشت گرد گروپ وغیرہ ، تو اپنی امریکی شہریت سے محروم ہو سکتے ہیں۔

1990 میں امریکی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ جاری کیا تھا کہ جھنڈے کو نقصان پہنچانے کے خلاف قوانین غیر آئینی ہیں ، اور جھنڈا جلانے کی مثال کو آئینی طور پر آزادی اظہار کا تحفظ حاصل ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG