رسائی کے لنکس

نئی کانگریس کی ممکنہ حکمت عملی اور اس کے اوباما انتظامیہ پر اثرات

  • ولیم ایگل

نئی کانگریس کی ممکنہ حکمت عملی اور اس کے اوباما انتظامیہ پر اثرات

نئی کانگریس کی ممکنہ حکمت عملی اور اس کے اوباما انتظامیہ پر اثرات

وسط مدتی انتخاب کے نتیجے میں امریکہ کے ایوانِ نمائندگان میں ریپبلیکن پارٹی کی اکثریت ہو گئی ہے۔ ریپبلیکن لیڈروں کی توجہ امریکی بجٹ میں1.3 کھرب ڈالر کا خسارہ کم کرنے پر ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اوباما انتظامیہ کے لیے خارجہ پالیسی کے بہت سے معاملات میں دشواریاں پیدا ہو جائیں گی۔

بہت سے تجزیہ کار اس انتظار میں ہیں کہ جب ریپبلیکنز، کمیٹیوں کے چیئرمین بنیں گے تو کیا تبدیلیاں آئیں گی۔ Heritage Foundation کے تجزیہ کار Brett D. Schaefer کا خیال ہے کہ صوابدیدی اخراجات میں، یعنی ایسے پروگراموں میں جن پر خرچ کرنا لازمی نہیں ہے، بلکہ جن کی منظوری ہر سال کانگریس دیتی ہے، اخراجات میں کمی کی جائے گی۔ مثلاً اقوامِ متحدہ اور محکمۂ خارجہ کے بجٹ میں، جن کے دفاع کے لیے ملک کے اندر کوئی حلقے موجود نہیں ہیں، کمی کی توقع ہے۔

مسٹر Schaefer کہتے ہیں کہ ‘‘اخراجات کو 2008ء کی سطح پر لانے کی باتیں ہوتی رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہر شعبے میں کمی کر دی جائے گی، لیکن میرا خیال ہے کہ زیادہ قدامت پسند ایوان ِ نمائندگان عام طور سے غیر ملکی امداد اور بین الاقوامی پروگراموں کی زیادہ کڑی جانچ کرے گا کیوں کہ روایتی طور پر، ڈیموکریٹس کے مقابلے میں ریپبلیکنز ان پروگراموں پر زیادہ تنقید کرتے رہے ہیں۔’’

ایوانِ نمائندگان کی State and Foreign Operations Appropriations Subcommittee جو محکمۂ خارجہ، یو ایس ایڈ اور غیر ملکی امداد اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی رقوم کا تعین کرتی ہے، بجٹ میں کچھ کمی کر سکتی ہے۔ اس سب کمیٹی کی چیئرمین شپ ریاست ٹیکساس سے ایوانِ نمائندگان کی رکن،Kay Granger کو مل سکتی ہے۔

اخبار واشنگٹن ٹائمز کے مطابق، وہ متوازن بجٹ کی زبردست حامی ہیں اور ایسے ملکوں کو ترقیاتی امداد دینے پر سخت تنقید کرتی رہی ہیں جنھوں نے کرپشن کو کنٹرول کرنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے ہیں۔

اس بات کا بھی امکان ہے کہ نئی ریپبلیکن اکثریت نگرانی کی ذمہ داریاں بھی سنبھالے گی۔ اس طرح اسے اوباما انتظامیہ کی پالیسیوں کو چیلنج کرنے کا موقع ملے گا۔

خارجہ امور کی کمیٹی کی چیئرپرسن الینا رَوس

خارجہ امور کی کمیٹی کی چیئرپرسن الینا رَوس

ایوانِ نمائندگان میں خارجہ امور کی کمیٹی کی چیئرپرسن، کانگریس کی خاتون رکنIlena Ros-Lehtinen ہوں گی۔ وہ افغانستان میں فوجوں میں اضافے کی صدر اوباما کی پالیسی اور ایران کے خلاف پابندیوں پر عمل درآمد کی زبردست حامی ہیں۔ وہ چین اور روس میں انسانی حقوق کی حامی ہیں اور انتظامیہ کی اس پالیسی کے خلاف ہیں کہ کیوبا کے خلاف کچھ امریکی پابندیاں نرم کر دی جائیں۔ خاتون رکن کانگریس کو اوباما انتظامیہ کے اقوام ِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں دوبارہ شامل ہونے کے فیصلے سے بھی اختلاف ہے اور انھوں نے اس مجوزہ قانون کی حمایت کی ہے جس کے تحت اقوام متحدہ کو دی جانے والی مالی امداد کم کرنے کو کہا گیا ہے۔

امریکہ کی خارجہ پالیسی کی نیشنل کمیٹی کے نائب صدرJ. Peter Pham کہتے ہیں کہ انہیں ترقیاتی امداد کے موضوع میں خاص طور سے دلچسپی ہے۔

کیلے فورنیا کے رکن کانگریسEd Royce ایوانِ نمائندگان کی Foreign Affairs Subcommittee on Terrorism, Nonproliferation and Trade کے چیئرمین بن جائیں گے۔ Pham کہتے ہیں کہ Royce اپنی کمیٹی کو ان ملکوں کے رویے کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کریں گے جنھیںMillennium Challenge Corporation کے تحت فنڈ ملتے ہیں۔ یہ کارپوریشن ان ملکوں کو امداد فراہم کرتی ہے جن کا اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں انتظام و انصرام کا ریکارڈ اچھا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کارپوریشن خود اپنے معیاروں سے بھٹک گئی ہے اور بعض رکن ممالک کے رویے سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچتا ہے۔

مسٹر Pham کا کہنا ہے کہ ‘‘ریکارڈ میں یہ بات موجود ہے کہ مسٹر Royce اور خاتون رکن کانگریس Kay Granger دونوں نے سماعت کے دوران اور خط و کتابت کے ذریعے سینیگال کے ساتھ54 کروڑ ڈالر کے سمجھوتے پر دستخط کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب سینیگال کے صدر شمالی کوریا کے ساتھ مل کر ڈھائی کروڑ ڈالر سے ساڑھے سات کروڑ ڈالر تک کی مالیت کا کانسی کا مجسمہ تعمیر کر رہے تھے اور انھوں نے اپنے بیٹے کو بین الاقوامی تعاون، ٹرانسپورٹیشن، شہری ہوا بازی، علاقائی منصوبہ بندی اور توانائی کا وزیر مقرر کیا تھا۔’’

نئی کانگریس کی ممکنہ حکمت عملی اور اس کے اوباما انتظامیہ پر اثرات

نئی کانگریس کی ممکنہ حکمت عملی اور اس کے اوباما انتظامیہ پر اثرات

Pham کہتے ہیں کہ بعض انتہائی متنازعہ امور جیسے عراق اور افغانستان کی جنگوں کو چھوڑ کر، امریکہ کی خارجہ پالیسی دونوں پارٹیوں کے مشورے سے بنائی جاتی ہے اور نئی کانگریس میں بھی یہی رجحان جاری رہے گا۔ ان کے خیال میں، فرق صرف یہ ہوگا کہ ایوانِ نمائندگان پر ریپبلیکنز کے کنٹرول کی وجہ سے نگرانی کا عمل بڑھ جائے گا۔ اگر پوچھ گچھ اور نگرانی نہ ہو تو پروگراموں اور اخراجات کی نگرانی بالکل عام سی بات بن جاتی ہے، اور ایسے منصوبے بھی منظور ہو سکتے ہیں جن کی افادیت مشکوک ہوتی ہے۔

XS
SM
MD
LG