رسائی کے لنکس

امریکی تعلیمی اداروں کے اکثر غیر ملکی طالب علموں کا کوئی امریکی دوست نہیں

  • واشنگٹن

pakistan-education-usaid

pakistan-education-usaid

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم 38 فی صد غیر ملکی طالب علموں کی کسی امریکی سے گہری دوستی نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے امریکی طالب علم دنیا کے بارے میں جاننے کا یہ موقع کھورہے ہیں

امریکہ کے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں غیر ملکی طالب علموں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور ایک حالیہ مطالعاتی جائزے سے پتا چلا ہے کہ بہت سے غیر ملکی طالب علم اپنے امریکی ہم جماعتوں سے دوستی بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

جریدے International and Intercultural Communication میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ امریکی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم 38 فی صد غیر ملکی طالب علموں کی کسی امریکی سے گہری دوستی نہیں ہے۔

مطالعاتی جائزے کی منصف الزبتھ گیریس کا کہناہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی طالب علم دنیا کے بارے میں جاننے کا یہ موقع کھورہے ہیں اور زیادہ تر غیر ملکی طالب علم تنہائی اور عدم اطمینان کے احساسات کے ساتھ اپنے ملکوں کو لوٹ جائیں گے۔

جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرقی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کا کہناہے کہ انہیں امریکی طالب علموں کے ساتھ گھلنے ملنے میں بہت دشواریاں پیش آتی ہیں۔ اور 52 فی صد نے بتایا کہ ان کی کسی امریکی سے گہری دوستی نہیں ہے۔
گریس کا کہناہے کہ اس کی وجہ ثقافت اور زبان کی رکاوٹیں ہیں اور یہ بھی مختلف تہذیبوں میں دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے طریقے کیا ہیں۔

گریس کہتی ہیں کہ غیر ملکی طالب علم قدرتی طور پر اپنے ملک یا معاشرت سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کی جانب متوجہ ہوتے ہیں کیونکہ اس سے انہیں تہذیبی تفاوت کے مسائل سے نہیں گذرنا پڑتا۔

لیکن وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اپنے میزبان ملک کے دوست نہ بنانے کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ اس تعلیمی تجربے سے محروم رہ جاتے ہیں جو انہیں کسی بیرونی ملک میں حاصل ہوسکتاتھا۔

انہوں نے ایسی پالیسیاں بنانے اور مواقع فراہم کرنے کی تجویز دی ہے جس کے ذریعے غیر ملکی طالب اور مقامی طالب علموں کے درمیان فاصلوں کو دور کرنے میں مدد مل سکے۔
گریس کہتی ہیں کہ اگرچہ کئی کالجوں اور یونیورسٹیوں نے ملکی اور غیر ملکی طالب علموں کو قریب لانے کے پروگرام شروع کررکھے ہیں لیکن ان کادائرہ بڑھانے اور انہیں مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
XS
SM
MD
LG