رسائی کے لنکس

فورٹ ہُڈ مقدمہ: میجر ندال قتل عمد کا مجرم قرار


سماعت: عدالت کے باہر گارڈز کی نفری

سماعت: عدالت کے باہر گارڈز کی نفری

جیوری نے اپنے متفقہ فیصلے میں اُنھیں 13فوجی ساتھیوں کو قتل کرنے کا قصور وار ٹھہرایا

امریکی فوج کے سائکیاٹرسٹ کو، جن پر 2009ء میں ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ میں 13ساتھی فوجیوں کو قتل کرنے کا الزام ہے، ممکنہ طور پرموت کی سزا کا سامنا ہے۔ تیرہ ججوں پر مشتمل فوجی عہدے داروں نے جمعے کے روز میجر ندال کو فوجی اہل کاروں کے قتل عمد کا قصور وار ٹھہرایا، جنھیں اُس وقت قتل کیا گیا جب وہ عراق اور افغانستان کے جنگی محاذوں کے لیے تعیناتی کے لیے تیار تھے۔

اُنھیں مزید 32افراد کو ارادتاً قتل کرنے کا بھی قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔

ندال امریکہ میں پیدا ہونے والا مسلمان ہے، جن کا استفسار ہے کہ اُنھوں نے اِن دونوں امریکی جنگوں میں اپنی ’ہمدردیاں تبدیل کردی‘ تھیں، اور اُنھوں نے یہ حملہ اس لیے کیا تھا تاکہ فورٹ ہُڈ کے اہل کاروں کو بیرون ملک مسلمان باغیوں سے لڑنے کے لیے نہ بھیجا جا سکے۔

اس سے قبل موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق، تیرہ عہدے داروں پر مشتمل جیوری کا جمعے کے روز اجلاس ہوا جس میں میجر ندال حسن کے کیس کا معاملہ زیر ِغور رہا، جس سے قبل عدالت نے دو ہفتے تک تقریباً 90 شہادتیں قلم بند کیں۔ اُن پر الزام ہے کہ اُنھوں نے عراق اور افغانستان کی جنگوں میں تعینات کیے جانے والے فوجیوں کو جان بوجھ کر گولیوں کا نشانہ بنایا۔

فوج کے وکلائے استغاثہ کے رُکن، کرنل اسٹیو ہینڈرکس نےجمعرات کے روز اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ گولیاں چلاتے وقت، حسن نے طے کرلیا تھا کہ فورٹ ہُڈ میں واقع طبی تنصیب اُن کی’ ذاتی ملکیت ہے‘۔ ہینڈرکس کے بقول، یہ بات ’کسی شک و شبہے کے بغیر‘ کہی جاسکتی ہے کہ حسن نے یہ عمل ’قتل کی نیت سے‘ کیا۔

ججوں کے پاس حسن کے بارے میں غور کے لیے کوئی بات نہیں، کیونکہ وہ خود ہی وکیل صفائی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ملزم نے اپنی قسمت کے فیصلے کے سلسلے میں مقدمے کی کارروائی کی اختتامی التجا پیش کرنے کا موقع ہاتھ سے گنوا دیا ہے، اُنھوں نے مقدمے کے دوران اپنی حمایت میں کوئی شاہد پیش نہیں کیا اور اپنا دفاع کرنے سے انکار کیا۔

مقدمے کے ابتدائی بیان میں حسن نے ، جو امریکہ میں پیدا ہونے والا مسلمان ہے، کہا کہ مقدمے میں پیش کیا جانے والا ثبوت ’واضح کردیگا‘ کہ اُنھوں نے ہی گولیاں چلائیں۔

حسن نے کہا کہ وہ ایک فوجی ہیں، جنھوں نے اپنی ’ہمدردیاں تبدیل کردی‘ تھیں۔

اس سے قبل اِسی ہفتے ہونے والی سماعت کے دوران، حسن نےمقدمے کی سربراہی کرنے والے جج کو بتایا کہ اُن کے حملے کا محرک بقول اُن کے، ’ایک غیر قانونی جنگ‘ تھی اور یہ کہ وہ ’کافی طیش میں‘ تھے، کیونکہ اُنھوں نےجن فوجیوں پر گولیاں چلائیں وہ بیرون ملک مسلمان باغیوں کے خلاف لڑنے کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔

اگر 13ججوٕں پر مشتمل عدالت حسن کو قتل عمد کے الزام میں قصور وار ٹھہراتی ہے، تو اُنھیں موت کی سزا ہوسکتی ہے۔
XS
SM
MD
LG