رسائی کے لنکس

وائٹ ہاؤس ترجمان، جوش ارنیسٹ کے بقول، ’میرے خیال میں، یہ کہنا درست ہے کہ ہماری طرف سے وہاں مزید اعلیٰ سطح کی موجودگی ضروری تھی‘۔۔۔ اِس ضمن میں، اُنھوں نے امریکہ کے محتاط رویے کا باعث، کسی حد تک، سکیورٹی تشویش کو قرار دیا

وائٹ ہاؤس ترجمان نے کہا ہے کہ دہشت گرد حملوں کے خلاف پیرس میں منعقدہ یکجہتی ریلی میں امریکہ کی طرف سے اعلیٰ حکام کی سطح پر شرکت نہ کر ’مناسب نہیں تھا‘۔

جوش ارنیسٹ نے یہ بات پیر کو ایک مشترکہ اخباری کانفرنس، اور بعدازاں، اپنی روزانہ اخباری بریفنگ کے دوران کہی۔

اتوار کے روز پیرس کے یکجہتی مارچ میں جہاں دنیا کے 50 کے لگ بھگ سربراہان شریک تھے، امریکہ کی نمائندگی فرانس میں امریکی سفیر جین ہارٹلے اور یورپ کے لیے امریکی محکمہٴخارجہ کی اعلیٰ سفارت کار، وکٹوریہ نُلینڈ نے کی، جو فرانسسی صدر فرانسواں اولاں اور دیگر سربراہان کے ہمراہ ریلی میں موجود تھے۔

جوش ارنیسٹ کے بقول، ’میرے خیال میں، یہ کہنا درست ہے کہ ہماری طرف سے وہاں مزید اعلیٰ سطح کی موجودگی ضروری تھی‘۔

اِس ضمن میں، ارنیسٹ نے امریکہ کے محتاط رویے کا باعث، کسی حد تک سکیورٹی تشویش کو قرار دیا۔

اِس سے قبل، پیر ہی کے روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس سلسلےمیں کی جانے والی نکتہ چینی کو مسترد کیا کہ نا ہی وہ خود، نہی کوئی دوسرا اعلیٰ اہل کار پیرس ریلی میں شریک تھا۔

بقول اُن کے، ’میں نہیں سمجھتا کہ فرانس کے عوام کو کسی طرح کا کوئی شک ہے کہ اُن پر جو کچھ بیتی اس پر امریکی سوچ کیا ہے۔ یہ ہمارا اپنا ذاتی نقصان ہے۔ اِس دکھ کے لمحے میں دل کی گہرائی کے ساتھ ہم فرانس کے عوام کے ساتھ ہیں‘۔

کیری نے مزید کہا کہ ’حملہ ہونے کے فوری بعد، ہم فرانس کے ساتھ انٹیلی جنس کا تبادلہ کرتے رہے‘، اور یہ کہ تب سے فرانس سے امریکہ کا ’قریبی رابطہ برقرار رہا‘۔


اعلیٰ ترین سطح کے امریکی سفارت کار اس وقت بھارت و پاکستان کے پہلے سے طے شدہ طویل دورے پر ہیں۔ امریکی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ملک واپس آتے ہوئے وہ جمعرات کو فرانس میں قیام کریں گے۔

دورہٴ فرانس میں، کیری فرانسسی وزیر خارجہ لورے فبیوس سے ملاقات کریں گے، وہ فرانس کے مزاحیہ خیالات کے حامل جریدے، ’چارلی ہینڈو‘ پر حملے میں ہلاک ہونے والے تمام 17 افراد کی المناک ہلاکت پر تعزیت کریں گے؛ اور یہودی سپر مارکیٹ جائیں گے۔

اِس حملے کے نتیجے میں، جریدے کے ساتھ بین الاقوامی ہمدردی اور حملہ آوروں کے خلاف دنیا بھر کی مذمت سامنے آئی ہے، جنھوں نے داعش کے شدت پسند گروہ اور القاعدہ سے اپنی وفاداری کا اظہار کیا۔



XS
SM
MD
LG