رسائی کے لنکس

امریکی آئین میں اظہار رائے کی آزادی کےحق پر بحث

  • گیری تھامس

جنوب مشرقی ریاست فلوریڈا میں ایک چھوٹے سے چرچ کے پادری، ٹیری جونز نے اس گیارہ ستمبر کو قرآن جلانے کا دِن قرار دینے کا ارادہ ترک کر دیا ہے ۔ لیکن یہ تصور کہ امریکہ میں کسی کو اسلام کی مقدس ترین کتاب کے جلانے کی اجازت ہو گی، بہت سے لوگوں کے لیے بڑا ہولناک اور نا قابلِ فہم ہے۔ تا ہم، امریکہ میں عدالتوں نے بہت مرتبہ یہ فیصلہ دیا ہے کہ اس قسم کی حرکتوں کو، چاہے وہ کتنی ہی قابلِ نفرت کیوں نہ ہوں، امریکی آئین کا تحفظ حاصل ہے۔

ریاست میری لینڈ میں Minaret of Freedom Institute کے ڈائریکٹر، عماد الدین احمد، قرآن شریف کو سرِ عام جلائے جانے کے بارے میں مسلمانوں کے غم و غصے کو اس طرح بیان کرتے ہیں’’یہ کیا تماشہ ہے کہ اس پادری کے قرآن جلانے کے حق کے بارے میں کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا جب کہ فیصل رؤف اور ان کے ساتھیوں کے مین ہیٹن میں اسلامک سینٹر بنانے، اور ریاست ٹینیسی میں Murfreesboro اور دوسرے مقامات پر مسجدوں کی تعمیر کا حق، اختلافی مسئلہ بن جاتا ہے ۔ (کسی بھی شخص کے لیے جسے یہاں کی زندگی کا تجربہ نہیں ہے اور جسے یہ معلوم نہیں کہ قانون انسانی حقوق کے خلاف سیاسی طور پر ہمیشہ کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی پر عمل ہوتا رہا ہے،مجھے تو یہ پالیسی سراسر منافقت معلوم ہوتی ہے‘‘۔

تقریر اور مذہب کے معاملے میں اظہارِ رائے کی آزادی امریکی آئین کا حصہ ہے ۔ امریکن سول لبرٹیز یونین کے Daniel Mach کہتے ہیں کہ آئین کے تحت، امریکہ میں قابلِ اعتراض بلکہ گستاخانہ خیالات تک کے اظہار کی اجازت دینا بھی ضروری ہے، اگرچہ بعض اوقات ایسا کرنا مشکل ہوتا ہے۔’’تقریر کی آزادی میں کوئی دقت نہیں ہوتی اگر پیغام ایسا ہو جو صرف چند لوگوں کی نظر میں قابلِ اعتراض ہو۔لیکن آزادیٔ اظہار کے حق کا دفاع کرنا انتہائی اہم ہو جاتا ہے جب پیغام ایسا ہو جسے بیشتر لوگ قابلِ نفرت سمجھتے ہوں، جیسا کہ موجودہ کیس میں ہے ۔ہمارے سسٹم میں، اس کا جواب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کے اپنی آواز بلند کرنے یا احتجاج کرنے کے حق کو محدود کر دیا جائے، چاہے وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ کتنا ہی نفرت انگیز اور تنگ نظری پر مبنی کیوں نہ ہو‘‘۔

یکے بعد دیگرے بہت سے کیسوںمیں، امریکی عدالتوں نے تسلیم کیا ہے کہ آزادیٔ تقریر میں ایسا طریقۂ اظہار بھی شامل ہے جس سے معاشرے کے بیشتر حصے کی دل آزاری ہوتی ہو۔ ان میں امریکی نازیوں اور Ku Klux Klan کے اجتماع اور امریکی پرچم کا جلایا جانا شامل ہے ۔

لیکن ایک عام سوال جو دنیا میں بہت سے لوگ پوچھتے ہیں یہ ہے کہ آخر امریکی حکام قرآن جلانے کی ممانعت کیوں نہیں کر دیتے، جب کہ بہت سے لوگوں کی نظر میں قرآن کو جلانا انتہائی قابلِ نفرت حرکت ہے ۔ Minaret of Freedom Institute کے ڈائریکٹر، عماد الدین احمد توجہ دلاتے ہیں کہ دوسری مغربی جمہوریتوںمیں نفرت انگیز تقریر کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن امریکہ میں آزادیٔ تقریر کا تصور منفرد ہے ۔’’جمہوریت کا امریکی تصور دوسرے تمام مغربی ملکوں سے مختلف ہے ۔امریکہ دنیا میں واحد ملک ہے جہاں نتائج کی پرواہ کیے بغیر ، سرکشی کے اظہار کے لیے آپ کسی بھی کتاب کو جلا سکتے ہیں۔ مثلاً جرمنی یا فرانس میں اگر آپ کوئی کتاب لکھیں جس میں ہولوکاسٹ کے بارے میں شبہے کا اظہار کیا گیا ہو، تو آپ کو جیل میں ڈال دیا جائے گا ، بلکہ فرانس میں تو کچھ لوگ ایسا کرنے پر واقعی جیل میں ڈال دیے گئے ہیں۔‘‘

جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر Ira Lupo کہتے ہیں کہ امریکہ میں نفرت پھیلانے والی تقریر صرف اسی صور ت میں جرم قرار دی جا سکتی ہے جب وہ کسی ایسی کارروائی کا حصہ ہو جس میں تشدد پر اکسایا گیا ہو۔مثلاً اگر پادری جونز نے قرآن جلایا اور پھر لوگوں سے کہا کہ آؤ، سڑک کے پار مسجد پر جاکر کھڑکی سے اندر پتھر پھینکو تو پھر یہ اشتعال انگیز حرکت ہو گی۔ لیکن اگر انھوں نے قرآن جلایا اور اسلام کے بارے میں اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کیا، لیکن لوگوں کو کسی غیر قانونی حرکت کے لیے نہیں اکسایا، تو پھر یہ کوئی جرم نہیں ہے ۔

Charles Haynes واشنگٹن میں فرسٹ امنڈمنٹ سنٹر سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ میں اظہار کی آزادی جو بڑی حد تک بے لگام ہے، خیالات و تصورات کے فروغ کا ذریعہ ہے۔ اس ماحول میں ایک چھوٹی سی اقلیت کے نفرت انگیز خیالات پر بہت بڑی اکثریت غالب آ جاتی ہے جس کی نظر میں ایسے خیالات قابلِ اعتراض ہوتے ہیں۔ ہر ایک کو اظہارِ خیال کی مکمل آزادی کانتیجہ یہ ہوتا ہےکہ ہم جن خیالات کو پسند کرتے ہیں، ان کے شور میں ان لوگوں کی آواز دب کر رہ جاتی ہے جنہیں ہم پسند نہیں کرتے۔

قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ آزادیٔ اظہار کے معاملے میں دنیا کا سب سے لبرل ملک ہے۔

XS
SM
MD
LG