رسائی کے لنکس

ہم جنس پرست فوج میں بھرتی ہوسکتے ہیں


ہم جنس پرست فوج میں بھرتی ہوسکتے ہیں

ہم جنس پرست فوج میں بھرتی ہوسکتے ہیں

امریکی محکمہ دفاع نے فوج کے بھرتی مراکز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسے امیدواروں کی درخواستوں پر عمل درآمد شروع کریں جو خود کو ہم جنس پرست کہتے ہیں۔

منگل کو یہ اقدام اس عدالتی فیصلے کے بعد کیا گیا جس میں پینٹا گون کی ’نہ پوچھو،نہ بتاؤ‘ پالیسی کو معطل کردیا گیا۔ اس پالیسی کے تحت پینٹاگون کو فوجی مردوخواتین سے ان کے جنسی رجحان سے متعلق پوچھنے کی ممانعت تھی لیکن ایسے اہلکار جو خود کو ہم جنس پرست کہتے تھے یا ان کے بارے میں معلوم ہوتا تھا تو انھیں فوج سے برخاست کردیا جاتا تھا۔

کیلیفورینا کی ایک جج نے گذشتہ ماہ اس پالیسی کو غیر آئینی قرار دیا تھا اور ایک ہفتے قبل محکمہ دفاع کو ہم جنس پرستوں پر پابندی ختم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ انھوں نے عدالتی فیصلے کے خلاف حکومت کی درخواست کو بھی منگل کے روز مسترد کر دیاتھا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے بتایا ہے کہ اس پالیسی کی یکسر منسوخی کے لیے دفاعی اخراجات کے مسودے میں تحریر کیا جاچکا ہے جو کہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکی سینٹ میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ اکثر سینیٹرز صدر اوباما سے متفق ہیں کہ یہ پالیسی بلاجواز ہے اور اسے ختم ہونا چاہیئے۔

پینٹا گون کی طرف سے گذشتہ ہفتے ایک میمو جاری کیاگیا تھا جس میں اہلکاروں سے کہا گیا کہ پالیسی کے حوالے سے ’غیر یقینی‘ کی فضا میں وہ اپنے جنسی رجحان سے متعلق کھلے عام بات کرنے سے خبردار رہیں۔ میمو میں فوجیوں کو معاملے کے حل سے قبل اپنے طرز زندگی میں تبدیلی لانے کے بارے میں متنبہ کیا گیا کیونکہ عدالتی فیصلہ منسوخ ہونے کی صورت میں یہ تبدیلی ناصرف متعلقہ فوجیوں بلکہ دوسروں کے لیے بھی منفی نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

صدر اوباما نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ’نہ پوچھو،نہ بتاؤ‘پالیسی ان کے دور حکومت میں ختم ہوجائے گی مگر ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے کسی طریقہ کار کے تحت عمل کرنا ہو گا کیونکہ ان کے بقول قانون کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

XS
SM
MD
LG