رسائی کے لنکس

داعش زور پکڑتی جا رہی ہے: رپورٹ


فائل

فائل

اپنی سالانہ رپورٹ میں محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ ’’داعش نے لیبیا میں بھی خاصے علاقے پر تسلط جما لیا ہے اور افغانستان، پاکستان اور نائجیریا میں اپنی شاخیں قائم کی ہیں‘‘۔

امریکی محکمہٴ خارجہ نے دہشت گردی کے معاملے پر سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی دہشت گردی کے خطرہ کے حوالے سے اب مرکزیت کا عنصر بکھرتا دکھائی دے رہا ہے، ایسے میں جب داعش جیسا شدت پسند گروپ کئی خطوں میں جڑیں پکڑ رہا ہے جن میں جنوب مشرقی ایشیا، روس کا شمالی قفقاز کا علاقہ اور افریقہ بھی شامل ہے۔

محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ القاعدہ، بوکو حرام اور الشباب عدم استحکام پھیلانے کی طرز کے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جب کہ گذشتہ سال عالمی طور پر داعش سخت خطرے کا باعث بنا رہا، جب کہ شام اور عراق میں شدت پسند گروپ ’’انتہائی طاقت ور ہے‘‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اِن دو ملکوں میں 2015ء کے دوسری شش ماہی کے دوران داعش کی عسکری طاقت میں کمی واقع ہوئی، جس دہشت گرد گروپ کے لڑاکوں نے دوسرے ملکوں میں حملوں کا بازار گرم کر رکھا ہے، جن میں فرانس اور ترکی شامل ہیں۔

داعش نے لیبیا میں بھی خاصے علاقے پر تسلط جما لیا ہے، اور افغانستان، پاکستان اور نائجیریا میں اپنی شاخیں قائم کی ہیں۔

محکمہٴ خارجہ کی سالانہ رپورٹ کی فہرست میں تقریباً 60 ملک شامل ہیں جہاں دہشت گرد گروپوں کی موجودگی بتائی گئی ہے۔ جب کہ فہرست میں متعدد ملکوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جو انسداد انتہا پسندی کی عالمی لڑائی میں سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

کلیدی حقائق نامہ:

بوکو حرام: اس کا تعلق داعش سے ہے؛ جس نے’ شاڈ لیک بیسن‘ کے خطے میں ہزاروں افراد قتل کیے، جب کہ لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

القاعدہ: اس کی مرکزی قیادت کمزور پڑ چکی ہے، لیکن گروپ اب بھی خطرے کا باعث ہے۔ اس سے متاثرہ گروہوں کا نیٹ ورک جزیرہٴ نما عربستان، مغرب اور بھارتی برصغیر میں موجود ہے۔


الشباب: شدت پسند گروپ نے صومالیہ میں مہلک حملے کیے۔ صومالی حکومت کی پیش رفت کو الٹنے اور ’اے ایم آئی ایس او ایم‘ (افریکن یونین مشن اِن صومالیہ) کے ’’سیاسی عزم‘‘ کو کمزور کرنے کے لیے اپنے حربے جاری رکھے ییں۔

بدتر ریاستی عناصر:

ایران: دہشت گردی کی سرپرستی میں ’’نمایاں‘‘ نام رکھتا ہے جن کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ حزب اللہ کا حامی ہے جب کہ غزہ میں فلسطینی دہشت گرد گروپوں اور عراق اور مشرق وسطیٰ میں انتہا پسندوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔

سوڈان: دہشت گردی کے سرپرست ملک کا درجہ برقرار رکھا ہے، جس کے بارے میں امریکہ کو تشویش لاحق ہے کہ وہ فتح، فلسطین اسلامی جہاد، حماس اور حزب اللہ کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شام: اسد حکومت نے دہشت گرد گروپوں کی سیاسی حمایت کی فراہمی جاری رکھی، جو علاقائی استحکام پر اثرانداز ہو رہے ہیں جب کہ اُس نے حزب اللہ کو اسلحہ اور سیاسی حمایت کی فراہمی جاری رکھی۔

پیش رفت:


محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ 45 ممالک ایسے ہیں جہاں غیر ملکی جنگجوؤں کے ساتھ نبردآزما ہونے کے لیے قوانین منظور کیے گئے یا پھر اُن میں بہتری لائی گئی۔

پینتیس ملک ایسے ہیں جنھوں نے غیر ملکی لڑاکوں کو گرفتار کیا۔

بارہ ملکوں نے گزشتہ سال کم از کم ایک لڑاکے کے خلاف ’’کامیابی کے ساتھ قانونی چارہ جوئی کی‘‘۔

XS
SM
MD
LG