رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کے جوہری تجربے سے متعلق ’بہت کم شواہد‘ ملے


پنگئی ری کی تنصیب کی سیٹیلائیٹ سے حاصل کردہ تصویر

پنگئی ری کی تنصیب کی سیٹیلائیٹ سے حاصل کردہ تصویر

امریکی انسٹیٹیوٹ کا کہنا تھا کہ پنگئی ری نامی تنصیب پر ہونے والی سرگرمیاں جوہری تجربے کے تیاری کے اولین مراحل کی ہو سکتی ہیں

امریکہ کے ایک تحقیقاتی گروپ نے کہا ہے کہ اس بارے میں "بہت کم شواہد" ملے ہیں کہ شمالی کوریا صدر اوباما کے دورہ سیول کے موقع پر جوہری تجربہ کر سکتا ہے۔

جنوبی کوریا نے رواں ہفتے کہا تھا کہ اس نے شمال کے پنگئی ری جوہری تجربے کی مقام پر سرگرمیوں میں تیزی دیکھی ہے جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ زیر زمین ایک جوہری تجربہ کر سکتا ہے۔

شمالی کوریا پر نظر رکھنے والے بعض مبصرین بھی اس خیال کا اظہار کر چکے ہیں کہ امریکی صدر کے دورے کے دوران پیانگ یانگ کوئی اشتعال انگیزی کر سکتا ہے۔

یو ایس کوریا انسٹیٹیوٹ نے بدھ کو تصدیق کی کہ سٹیلائیٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر یہ ظاہر کرتی ہیں کہ شمالی کوریا نے پنگئی ری میں نئی سرگرمیاں شروع کی ہیں۔ لیکن یہ نئی سرگرمیاں صرف سازو سامان (کریٹ، باکسز) کی نقل و حرکت پر مبنی ہیں اور انسٹیٹیوٹ کے بقول یہ گزشتہ جوہری تجربے کے وقت ہونے والی نقل و حرکت جیسی نہیں ہیں۔

یو ایس کوریا انسٹیٹیوٹ جان ہاپکنز اسکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز سے منسلک ہے۔ شمالی کوریا سے متعلق ان کی رپورٹس 38 نارتھ ویب سائٹس پر شائع کی گئیں۔

انسٹیٹیوٹ کا کہنا تھا کہ پنگئی ری نامی تنصیب پر ہونے والی سرگرمیاں جوہری تجربے کے تیاری کے اولین مراحل کی ہو سکتی ہیں یا پھر یہ معلوم ہوتا ہے کہ شمالی کوریا دیکھ بھال کی معمول کی کارروائی کر رہا ہو۔

امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو کہا تھا کہ جزیرہ نما کوریا کی صورتحال کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔ اس نے پیانگ یانگ پر زور دیا تھا کہ وہ " خطے کی سلامتی اور امن کے لیے خطرے بننے والی کسی بھی کارروائی سے گریز کرے۔"
XS
SM
MD
LG