رسائی کے لنکس

شام سے آکر یہاں آباد ہونے والے پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اپنے ملک میں واپس جا کر دوبارہ زندگی شروع کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔

شام میں جاری خانہ جنگی کے باعث بڑی تعداد میں نقل مکانی کر کے یورپ پہنچنے والے لوگوں سے وہاں ایک بحرانی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور اسی تناظر میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک 2017ء تک اپنے ہاں 70 ہزار کی بجائے ایک لاکھ تک پناہ گزینوں کو بسائے گا۔

مارچ 2011ء میں شام میں شروع ہونے والے تنازع کے اب تک 1500 شامی پناہ گزینوں کو امریکہ میں جگہ دی گئی ہے۔

وسط مغربی ریاست الینوئے میں مختلف تنظیمیں پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ان کی آباد کاری کے لیے انتظامات کرنے میں مصروف ہیں۔

الینوئے پہنچنے والے عصمت خلیل دادو کا تعلق شام کے علاقے حلب سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ وہاں بس کے ڈرائیور ہوا کرتے تھے اور ان کے خاندان کی گزر اوقات اچھے طریقے سے ہو رہی تھی لیکن جب جنگ ان کے دروازے تک پہنچی تو سب کچھ تبدیل ہو گیا۔

"لڑاکا جہاز تھے جو بم گرا رہے تھے، ہیلی کاپٹر تھے جو ہر روز بیرل بم گراتے تھے اور ہمیں نہیں پتا تھا کہ یہ آفت کب ختم ہو گی۔"

لہذا دادو خاندان نے بھی وہی کیا جو دیگر لاکھوں شامیوں نے اس صورتحال کے بعد کیا تھا۔ وہ سب اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور صرف اپنے استعمال کے کپڑوں کے بیگ سنبھالے یہ لوگ وہاں سے نکلے۔

دادو نے بتایا کہ "ہمارے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا اور یہ فیصلہ کرنا بہت ہی مشکل تھا کیونکہ ہم جانتے تھے ایک دفعہ ہم نے ملک چھوڑا تو ہم کبھی واپس نہیں آسکیں گے۔"

انھوں نے الینوئے میں پناہ کے لیے درخواست دی اور انھیں یہاں اس سال آباد کیے گئے دیگر 16 خاندانوں کے ساتھ جگہ مل گئی۔

سیریئن کمیونٹی نیٹ ورک نامی ایک نئی تنظیم شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی آبادکاری میں سرگرم ہے۔ اس کی ڈائریکٹر سوزین اکھراس کہتی ہیں کہ شکاگو بہت سے پناہ گزینوں کی آماجگاہ ہے اور ان کا ماننا ہے کہ آئندہ سال یہاں آنے والے دو ہزار سے زائد پناہ گزینوں میں اکثریت شامیوں کی ہوگی۔

"میرا ماننا ہے کہ بحیثیت امریکی ہمارے دل بہت بڑے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ شامی پناہ گزینوں کی یہاں آبادکاری میں مدد کریں۔"

لیکن تمام امریکی سوزین کے ہم خیال نہیں بھی نظر آتے۔ ان میں ریپبلکن صدارتی امیدوار کی نامزدگی کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں۔

گزشتہ ہفتے نیو ہمشائر میں ووٹروں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ " میں شام سے یہاں آنے والوں کو بتا دینا چاہتا ہوں، اگر میں جیت گیا، یہ سب واپس جائیں گے، میں آپ کو بتا رہا ہوں یہ واپس جائیں گے۔"

شام سے آکر یہاں آباد ہونے والے پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اپنے ملک میں واپس جا کر دوبارہ زندگی شروع کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔

عصمت دادو کہتے ہیں کہ یہاں آنے والے لوگوں کو جنگ سے فرار کے بعد کچھ عرصے کے لیے آرام کی ضرورت ہے، "امن کی ضرورت ہے، انھیں اپنے خاندانوں کو پالنا ہے تاکہ وہ معمول کی زندگی گزار سکیں۔"

XS
SM
MD
LG