رسائی کے لنکس

گوانتانامو کے قیدی پر ایک جرم ثابت


گوانتانامو کے قیدی پر ایک جرم ثابت
گوانتانامو کے قیدی پر ایک جرم ثابت

امریکہ کی ایک سویلین عدالت نے گوانتانامو بے میں قید تنزانیہ کے شہری کو افریقہ میں امریکی سفارتخانوں پر حملوں میں ملوث ہونے کا مرتکب قرار دیا ہے۔ جیوری نے ایک کے علاوہ باقی تمام الزامات میں اسے بری قرار دے دیا ہے۔

امریکہ کی ایک سویلین عدالت نے گوانتانامو بے میں قید تنزانیہ کے شہری کو افریقہ میں امریکی سفارتخانوں پر حملوں میں ملوث ہونے کا مرتکب قرار دیا ہے۔ جیوری نے ایک کے علاوہ باقی تمام الزامات میں اسے بری قرار دے دیا ہے۔

نیویارک کی ایک عدالت میں فیڈرل جیوری نے احمد خلفان گیلانی کو سات روز کی سماعت کے بعد صرف ایک جرم میں قصوروار ٹھرایا اوراس جرم کا تعلق دھماکہ خیز مواد کے ذریعے امریکی اثاثوں کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔گیلانی کو 280 دوسرے الزامات جو قتل اور قتل کی سازش سے متعلق تھے میں بری قرار دیا گیا ہے۔

گیلانی پر الزام تھا کہ وہ 1998میں تنزانیہ اور کینیا کے دارالحکومتوں داراسلام اور نیروبی میں امریکی سفارتخانوں پر بم حملوں کے منصوبے میں ملوث تھا۔ ان حملوں میں 224افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے 12امریکی شہری تھے۔

امریکہ کی سویلیں عدالت میں گوانتاما کے کسی بھی قیدی پرچلایا جانے والا یہ پہلا مقدمہ تھا۔ گیلانی کوکم ازکم 20سال یا زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

استغاثہ کا الزام تھا کہ ملزم نے القاعدہ کے ایما پر ٹرک اور گیس سلنڈر کے ذریعے حملوں کی سازش تیار کی تھی مگر اس کے وکیل کا موقف تھا کہ ملزم کو القاعدہ کے حملوں کے منصوبے کے بارے میں پہلے سے کوئی علم نہیں تھا۔

گیلانی کو سن 2004میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ امریکی حساس ادارے سی آئی اے نے دوسال تک نامعلوم مقام پر اپنے قبضے میں رکھنے کے بعد اسے گوانتانامو بے کے کیمپ میں منتقل کر دیا تھا۔ پچھلے سال نیویارک کی ایک عدالت میں اس پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

مجرم کے وکلا ء کا الزام ہے کہ سی آئی اے کے قبضے میں گیلانی پر تشد د کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG