رسائی کے لنکس

امریکہ میں اسلحے کی روک تھام کے لیے نیا قانون

  • مائیکل بومن

گذشتہ ماہ ریاست کنیٹی کٹ میں سکول پر ہونے والی فائرنگ سے پہلے امریکہ کے سیاسی منظرنامے میں اسلحے کی روک تھام کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی جا رہی تھی۔

امریکی قانون سازوں نے ایک ایسا قانون تجویز کیا ہے جس سے شدید حملہ کرنے والے فوجی نوعیت کے ہتھیاروں پر پابندی لگائی جا سکے گی۔ اس قانون کا ایک بڑا حصہ ان سفارشات پر مشتمل ہے جو صدر اوباما اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے پچھلے ماہ ریاست کنیٹی کٹ میں سکول پر فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد وضع کی گئیں۔

ڈیموکریٹک سینیٹر ڈایان فائنسٹائن کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد واضح ہے۔ ان کے الفاظ میں، ’’ہم ایسی قانون سازی متعارف کرا رہے ہیں جس سے فائرنگ کے ایسے واقعات کی روک تھام کرنا ممکن ہوگا جس میں بہت سی انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اور متاثرہ خاندان اور کمیونٹیز اجڑ جاتی ہیں‘‘۔

اس نئے قانون کی رُو سے ڈیڑھ سو کے قریب فوجی اسلحے جیسے ہتھیاروں کی تیاری، درآمد اور فروخت پر پابندی عائد کی جائے گی۔اور ایسے پرزوں پر بھی پابندی عائد کی جائے گی جن کی مدد سے عام ہتھیاروں کو مہلک یا ایسے ہتھیار بنانے میں مدد ملے جس سے شدید نوعیت کے حملے کرنا ممکن ہو۔ اس قانون کی رُو سے گولہ بارود کے صرف دس میگزینز رکھنے اجازت ہوگی۔

ڈایان فائنسٹائن کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کو اپنے پاس ایسے مہلک ہتھیار جنہیں شدید نوعیت کے حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکے رکھنے کا کوئی جواز موجود نہیں، کیونکہ اس سے ریاست کنیٹی کٹ میں ہونے والے حادثے جیسے واقعات پیش آسکتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’ایسے ہتھیار جو فوج کے لیے اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ اس سے کسی جنگ میں زیادہ سے زیادہ افراد کو مارا جا سکے، انہی ہتھیاروں کی طرز پر عام شہریوں کے لیے بھی اسلحہ بنایا جاتا ہے۔ یوں یہ اسلحہ ایسے لوگوں تک بھی پہنچ جاتا ہے جو قاتل ہیں، کسی گینگ کا حصہ ہیں یا کسی ذہنی بیماری کا شکار ہیں‘‘۔

ڈیموکریٹک سینیٹر چارلس شمر اسے مختصرا ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں، ’’شدید نوعیت کے حملے والا اسلحہ ہمارے جنگ کے میدانوں کے لیے بنایا جانا چاہیئے نہ کہ ہمارے گلی کوچوں کے لیے‘‘۔

اسلحے کی روک تھام کا یہ نیا قانون اس قانون کی زیادہ واضح شکل ہے جو 1994 میں اسی ضمن میں بنایا گیا تھا اور جس کی میعاد ایک دہائی کے بعد ختم ہو گئی تھی۔ گو کہ 1994 میں بنائے گئے اس قانون کی موجودگی میں بھی اسلحے سے تشدد کا سلسلہ جاری رہا تھا، لیکن اس وقت گنز یا بندوق سے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے واقعات بہت کم پیش آتے تھے۔ اُس قانون کی میعاد کے ختم ہونے کے بعد اس رجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے بہت سے قانون ساز اور چند ڈیموکریٹک قانون ساز بھی جو ہتھیار یا اسلحہ رکھنے کے حقوق کے بارے میں آواز اٹھا رہے ہیں، اس بل کی مخالفت کر سکتے ہیں۔ امریکہ میں ہتھیاروں کے حقوق کی بڑی تنظیم The National Rifle Association پہلے ہی اسلحے کی روک تھام کے اس نئے بل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی تیاری میں ہے۔

اس تنظیم کے سربراہ وین لاپئیر نے اس ہفتے کے آغاز میں کہا تھا، ’’ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہمیں بھی اپنی حکومت کے لیڈروں کی طرح ان حقوق اور آزادی تک رسائی حاصل ہے جو انہوں نے اپنے لیے وضع کر رکھے ہیں۔ اسی طرح ہمیں جرائم پیشہ افراد سے اپنے اور اپنے خاندانوں کو بچانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اپنے حقوق کا دفاع کرنے اور اپنے خاندانوں کو جزوی طور پر خودکار اسلحے سے بچانے کا حق رکھتے ہیں‘‘۔

لیکن ڈیموکریٹک کانگریس وومین کیرولین میک کارتھی، لاپئیر کی اس دلیل سے متفق دکھائی نہیں دیتیں۔ ان کے شوہر 1993 میں نیویارک کی ایک ٹرین میں فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوئے تھے۔ وہ کہتی ہیں، ’’اس حوالے سے کچھ کرنے سے پہلے ہم کتنے لوگوں کو مرتا دیکھیں گے؟‘‘

گذشتہ ماہ ریاست کنیٹی کٹ میں سکول پر ہونے والی فائرنگ سے پہلے امریکہ کے سیاسی منظرنامے میں اسلحے کی روک تھام کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی جا رہی تھی۔ اسلحہ کی روک تھام کے لیے نئے قانون کے حامیوں کا ماننا ہے انہیں شاید اس بل کو کانگریس سے پاس کرانے کے لیے مطلوبہ تعداد میں ووٹ نہ مل سکیں۔ لیکن اسلحے کی روک تھام کے بارے میں سیاستدانوں کے روئیے میں تبدیلی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلحے کی فروخت کا حساب رکھنا ، اسلحہ فروخت کرنے سے پہلے خریدار کے ماضی کی مکمل جانچ پڑتال اور ذہنی طور پر بیمار لوگوں سے اسلحے کو دور رکھ کر اسے باقاعدہ طور پر قانون کی شکل دی جا سکتی ہے۔ لیکن ایسا تب ممکن ہوگا جب امریکی عوام اس بارے میں مسلسل آواز اٹھائیں اور اپنے نمائندوں سے اسلحے کی روک تھام کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کرتے رہیں۔

اس بارے میں مزید جاننے کے لیے سنئیے مائیکل بومن کی رپورٹ مدیحہ انور کی زبانی۔

XS
SM
MD
LG